جھانسہ دے کر اقتدار میں آکر لوٹ مار کرنا جمہوریت نہیں، شبلی فراز

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

شبلی فراز نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا—فوٹو:ڈان نیوز
شبلی فراز نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا—فوٹو:ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ سندھ آپ کی جائیداد ہے، لوگوں کو جھانسہ دے کر اقتدار میں آکر لوٹ مار کرنا کیا جمہوریت ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ ‘اس وقت ملک میں دو قوتیں ہیں جو برسر پیکار ہیں، ایک مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اپوزیشن ہے اور دوسری عمران خان کی قیادت میں خیر کی قوت ہے’۔

اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ جنہوں نے ملک کو بظاہر ایک طرح سے رکھا لیکن ملک کو بتدریج اندر سے کھوکھلا کیا اور یہی وہ لوگ ہیں جو آج پاکستان کے عوام کو یہ بتانا چاہ رہے ہیں ان کا ہمدرد ان سے زیادہ کوئی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ملک میں غیراعلانیہ مارشل لا نافذ ہے، مولانا فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے دیکھا ہے کہ اپوزیشن نے جو ایک تحریک شروع کی ہے، جب یہ اسٹیج میں بیٹھے ہوتے ہیں تو دیکھ کر یاد آجاتی ہے کہ بنارسی ٹھگ کون ہوتے تھے’۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘بنارسی ٹھگ اچھا لباس پہن کر آتے تھے اور لوگوں کو دھوکا دے کر فرار ہوجاتے تھے، یہ لوگ جمع ہو کر عوام کو کہہ رہے کہ وہ ٹھیک کریں گے لیکن عوام کو معلوم نہیں کہ پچھلے 40 سال سے انہی کی حکومتیں تھیں اور کس طرح سے موٹر سائیکل پر آنے والے آج لینڈ کروزر پر آتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘لینڈکروزر سے اتر کر جلسوں میں بات غریبوں کی کرتے ہیں اور ہمیں بھاشن دیتے ہیں کہ انہیں عوام کا دکھ ہے’۔

شبلی فراز نے کہا کہ ‘کراچی کے واقعے کا بہت دکھ ہے کہ اپوزیشن نے کوئی ایسی کسر نہیں چھوڑی کہ وہ جوکچھ کررہے ہیں وہ ملک کی بھلائی کے لیے کرر ہے ہیں’۔

'اپوزیشن نے اداروں کو لڑانے کی کوشش کی'

ان کا کہنا تھا کہ ان کی وجہ سے ‘پوری دنیا میں پاکستان کا مذاق اڑیا جارہا ہے اورخاص کر ان لوگوں کو جن کو وہ خوش کرنا چاہتے ہیں، بھارت کی ٹی وی میں کن کی تصاویر آرہی ہیں، انہی رہنماؤں کی تصاویر آرہی ہیں جو گاہے بگاہے ٹی وی پر نظر آتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘انہوں نے اداروں کو لڑانے کی کوشش کی ہے، جس طرح بے یقینی اور بدامنی پھیلانا چاہ رہے ہیں، اس کا حساب لیا جائے گا اور قوم ان سے حساب لے گی’۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘یہ بہروپیے، جنہوں نے اس ملک، اداروں اور معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجادی، آج عوام کے ہمدرد بن کر نمودار ہوئے ہیں، جس کی وجہ سیاسی ناٹک ہے جو یہ کھیل رہے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘انہوں نے کسی کو گالی دے کر اس بیانیے کو منتقل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے تاکہ اس کے پیچھے ان کے مکروہ اور کرپشن زدہ چہرے چھپ جائیں اور اپنے کرپشن کے کیسز پر بات سے رخ موڑنے کے لیے یہ جنگ اداروں کی طرف جھونک دی ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ کی سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملاقات، ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دینے کا عزم

شبلی فراز نے کہا کہ ‘آج بلاول بھٹو تقریریں کررہے ہیں کہ عوام ان کا ساتھ دیں، عوام نے آپ کے والد اور آپ کے بڑوں کا بھی بہت ساتھ دیا تھا، آج جن سے آپ بغل گیر ہورہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی والدہ بینظیر بھٹو شہید کی تصاویر ہیلی کاپٹر سے پھینکی تھی اور آپ کے بڑوں کو برا کہا اور جمہوریت کی پیٹھ پر چھرا گھونپا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج یہ اکٹھے اس لیے ہوئے ہیں کیونکہ ابھی ان کے مفادات ایک ہیں اور خوف نے اکٹھا کیا ہے، جو احتساب ان کا ہونا ہے اس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں’۔

بلاول بھٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘انہوں نے اپنے دور میں کیا کچھ نہیں کیا خاص کر بلاول بھٹو، شہباز شریف اور نوازشریف کی اولاد نے ہماری خواتین پر ایسی باتیں کیں جو شرم ناک ہیں، ہماری خاتون اول کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن ان کو بھی گھسیٹا گیا، انہیں پتا نہیں کس آگ سے کھیل رہے ہیں’۔

'بلاول بھٹو کی حیثیت کیا ہے، انہیں وراثت میں پارٹی کی قیادت ملی'

انہوں نے کہا کہ ‘بلاول بھٹو کی حیثیت کیا ہے، وراثت کی وجہ سے ایک پارٹی کی قیادت ملی ہے اور اپنے قد سے بڑی باتیں کرتے ہیں، عوام کو دکھانے کے لیے آپ کے پاس کیا ہے، کراچی اور سندھ میں کتنے عرصے حکومت جاری ہے اور وہاں کیا حالت ہے، وہاں لوگ بھوک، افلاس اور غربت میں رہ رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ نے ہر ادارے اور پولیس کو بھی سیاست میں ملوث کردیا، آپ نے پولیس میں جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کیا اور سندھ میں ایک ناٹک رچایا’۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘مزار قائد پر صفدر اعوان نے ہلڑ بازی کی، اس جرم کی مذمت کے بجائے اس کو پورا سیاسی واقعہ بنادیا حالانکہ اس کا اعتراف آپ نے پریس کانفرنس میں کیا تھا اور کہا تھا غلط ہوا اور کیس بھی آپ کی پولیس نے درج کیا تھا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آپ اداروں کے خلاف بات کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے، آپ سمجھتے ہیں کہ سندھ آپ کی ذاتی جائیداد ہے، 18 ویں ترمیم کا ہمیں معلوم ہے کیوں کی گئی کیونکہ پاکستان کے عوام نے آپ کو رد کردیا تھا اور آپ کی پارٹی کو قومی سے علاقائی جماعت بنا دیا تھا، اتنا برا تو اے این پی کے ساتھ بھی نہیں ہوا وہ بھی اپنے حجرے تک محدود ہوگئی’۔

مزید پڑھیں:آئی جی سندھ نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ‘ان حالات کو مزید گھمبیر بنانا چاہتے ہیں، خود جمہوریت کا دوست کہتے ہیں، جمہوریت یہ ہوتی ہے کہ آپ لوگوں کو جھانسہ دے کر اقتدار میں آئیں اور پھر لوٹ مار شروع کریں’۔

انہوں نے پی پی پی سے کہا کہ ‘آج اگر ادارے نیچے ہیں تو اس کا ذمہ دار آپ ہیں، یہ کوئی دو سال میں نہیں ہوا یہ ان 30 سے 40 سال کی نااہل اور کرپٹ قیادت کا شاخسانہ ہے جو جلسوں میں ٹی وی پر نظر آتے ہیں، انہوں نے میرے ملک اور پاکستان کے نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگایا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ وہ لوگ ہیں جو کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں موقع ملتا ہے تو عوام کا خون چوستے ہیں لیکن آج عوام کے ہمدرد بن کر بیٹھے ہیں’۔

'مریم نواز خود کو بینظیر سمجھتی ہیں'

شبلی فراز نے کہا کہ ‘مریم نواز بھی وراثت کی پیداوار ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو بینظیر سمجھ لیا ہے، بینظیر پڑھی لکھی عورت تھی آپ کی طرح صرف جوتے، کپڑے اور میک اپ تو نہیں تھا، اگر آپ عوام کی بات کرتی ہیں پھر آپ کو انہی کی طرح رہنا ہوگا’۔

نواز شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘بزدلوں کی طرح باہر بیٹھ کر تقریریں کرتے ہیں، یہاں پارٹی کی کوئی قیادت نہیں ہے تتر بتر ہوئے ہیں اور پنجاب میں لوگ ہم سے مل رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی سیاست بنیادی طور پر ذاتی مفادات کا مجموعہ ہے، اپنے آپ کو کرپشن کے کیسز سے نجات دلانا چاہتے ہیں لیکن اگر پاکستان کو آگے جانا ہے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کو بچانا ہے تو پھر ان کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ہوتے ہوئے وہ دن دور نہیں جب یہ سارے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور جیلوں میں ہوں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن میں بھی اکیلے تھے اور اب تو حکومت میں ہیں کیسے مقابلے نہیں کریں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی اخلاقی قوت اور جرات نہیں ہے کہ سچ اور قانون کا سامنا کرسکیں، ان کا انجام بہت برا ہوگا۔