امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی جاری

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا— فوٹو:رائٹرز
آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا— فوٹو:رائٹرز

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نیگورنو-کاراباخ میں امریکا کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کی پہلے روز ہی خلاف ورزی کی گئی اور دونوں فورسز کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔

خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کا نفاذ آج ہوا تھا اور پہلے روز ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ تنازع کا حل سیاسی اور عسکری ذرائع سے نکل آئے۔

مزید پڑھیں: نیگورنو-کاراباخ میں جھڑپیں، آرمینیا کے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 974 ہوگئی

دوسری جانب آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پیشنیان نے سوشل میڈیا میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘آرمینیا کی طرف سے جنگ بندی کی پاسداری کی جارہی ہے’۔

خیال رہے کہ 27 ستمبر کو شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک سیکڑوں جانیں ضائع ہوچکی ہیں جبکہ روس کی جانب سے دو مرتبہ جنگ بندی کی باقاعدہ کوششیں کی گئیں جو ناکام ہوچکی ہیں۔

عالمی طاقتیں خطے کو کشیدگی سے بچانے اور لڑائی کو مزید پھیلنے سے روکنے کی خاطر کوششیں کر رہی ہیں کیونکہ اس لڑائی میں روس اور ترکی سمیت دیگر ممالک کے ٹکراؤ کا خدشہ ہے۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی کی تیسری کوشش امریکا کی جانب سے کی گئی تھی اور واشنگٹن میں 25 اکتوبر کو دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے الگ الگ مذاکرات کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، آذربائیجان اور آرمینیا کے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی معاہدے پر پیر (26 اکتوبر) سے عمل کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پیشنیان اور آذر بائیجان کے صدر الہام علی یوف کو مبارک ہو، جنہوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے’۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘بہت سی جانیں بچ جائیں گی’۔

جنگ بندی کے نفاذ کے فوری بعد آذربائیجان کی وزارت دفاع کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ آرمینیا کی فورسز نے ترتر اور لیچن کے مختلف علاقوں میں شہری آبادی پر شیلنگ کی جو متنازع خطے سے بہت دور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیگورنو-کاراباخ میں ہلاکتوں کی تعداد 540 سے زائد، انسانی بحران کا خدشہ

نیگورنو-کاراباخ کے حکام نے آذربائیجان کی وزارت دفاع کے بیان کو مسترد کیا اور کہا کہ آذربائیجان کی فورسز نے شمال مشرقی علاقے میں میزائل داغے اور طیاروں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

فرانس، روس اور امریکا کی نمائندگی میں تنازع پر ثالثی کے لیے تشکیل دیے گئے او ایس سی ای منسک گروپ نے بھی ان مذاکرات میں شرکت کی تھی۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ 29 اکتوبر کو ایک مرتبہ پھر جنیوا میں ملاقات کریں گے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے او ایس سی ای منسک گروپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘منسک گروپ تقریباً 30 برسوں سے آذربائیجان کے ساتھ تنازع حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ہمیں ایک نئی حقیقت کا سامنا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم ان مذاکرات سے تنگ آچکے ہیں، کب تک یہ مذاکرات کیے جاسکتے ہیں’۔

حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے نیگورنو-کاراباخ کے انسانی حقوق کے ادارے ’آرٹک بلغاریان‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 90 ہزار شہری یا 60 فیصد آبادی اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے مقامات یا آرمینیا منتقل ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تازہ جھڑپ میں میزائل لگنے سے ایک شہری مارا گیا اور دو زخمی ہوئے جبکہ آذربائیجان کی وزارت دفاع نے اس بیان کی تردید کر دی۔

نیگورنو-کاراباخ کے انسانی حقوق کے ادارے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقے میں اب تک 41 شہری اور 974 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ آذربائیجان نے کہا کہ اس کے 65 شہری ہلاک اور 300 افراد زخمی ہوئے، تاہم فوجی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1990 میں سوویت یونین سے آزادی کے ساتھ ہی کاراباخ میں علیحدگی پسندوں سے تنازع شروع ہوا تھا اور ابتدائی برسوں میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان 1994 سے اب تک تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کا نیگورنو-کاراباخ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا۔

بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔

متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں حالیہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔