سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی گستاخانہ خاکوں کےخلاف قرارداد منظور

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی پر پوری امہ میں اضطراب کی کیفیت ہے—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی پر پوری امہ میں اضطراب کی کیفیت ہے—فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی متفقہ طور پر فرانس میں بنائے گئے گستاخانہ خاکوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں ہوا، جس میں تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشترکہ مذمتی قرارداد پڑھی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرار داد پیش کرنے کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین کشیدگی نظر آئی تھی۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی حکومت کو توہین آمیز خاکوں کی سرپرستی بند کرنی چاہیے، علامہ طاہر اشرفی

اپوزیشن کی جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے قرار داد پیش کرنی چاہی تو حکومتی اراکین نے زبردست شور شرابہ کیا۔

بعد ازاں وزیر خارجہ نے انگریزی میں قرار داد پڑھی تو رہنما مسلم لیگ (ن) احسن اقبال نے 'قرارداد کو انگریزی کا تھیسس' قرار دیا۔

بعدازاں وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ متفقہ قرار داد پیش کرنے کے لیے مشاورت درکار ہے جس کے لیے 10 منٹ تک قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا جائے۔

سی پیک منصوبے کی قانون سازی پر حکومت کے لوگوں نے رابطہ کیا، خواجہ آصف

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی قانون سازی پر حکومت کے لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے بھرپور تعاون کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئین کمزور ہوگا تو وفاق کمزور اور پامال ہوگا، اس میں دراڑیں آئے گیں۔

مزید پڑھیں: فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف سینیٹ میں مذمتی قرارداد منظور

خواجہ آصف نے کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کا کمرہ توڑ کر چادر اور چار دیواری کو پامال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فیڈریشن نے آئی جی سندھ کو اغوا کرکے صوبے کے حقوق پر ڈاکا ڈالا ہے، رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ بلوچستان کے 70 سے 80 فیصد علاقے میں حکومت کی رٹ نہیں ہے۔

علاوہ ازیں جب اپوزیشن نے فرانس میں بنائے گئے گستاخانہ خاکوں کی مذمتی قرارداد پیش کرنا چاہی تو حکومتی نشستوں سے شور برپا ہوگیا۔

جس پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ خواجہ آصف اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایک دوسرے سے رابطہ کر لیں یہ حساس معاملہ ہے، جس پر خواجہ آصف نے انکار کردیا۔

گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پوری قوم متفق ہے، وزیر خارجہ

اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن نے ووٹنگ ووٹنگ کے نعرے لگائے، جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خواجہ آصف آپ کو بات کرنے کے لیے فلور دیا لیکن اب ہمیں بات کرنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی پر پوری امہ میں اضطراب کی کیفیت کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں: گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پاکستان کا احتجاج، فرانسیسی سفیر دفترخارجہ طلب

وزیر خارجہ کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا شور شرابا جاری رہا۔

تاہم شاہ محمود قریشی نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پوری قوم متفق ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرانس میں گستاخی کی کوشش کی گئی اس سے پوری مسلم دنیا کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

اس دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'آج اپوزیشن کے اس رویے پر انتہائی افسوس ہوا اور اسلامو فوبیا کا رحجان بڑھ رہا ہے جس پر ہمیں تشویش ہے اسی پر ایک قرار داد لے کر آیا ہوں'۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بلوچستان میں کھڑے ہو کر بلوچستان کی آزادی کے نعرے لگوائے جس پر انہیں شرم آنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: ’گستاخانہ خاکوں' کا معاملہ: مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ

وزیر خارجہ نے کہا کہ فوٹیج نے آپ کو اور آپ کے حلیفوں کو بے نقاب کردیا کہ پاکستان کے مفادات کو نقصان کون پہنچا رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ 'بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی روح اپوزیشن میں منتقل ہوچکی ہے اور بھارت کا بیانیہ اب اپوزیشن کا بیانیہ بن چکا ہے'۔

گستاخانہ خاکوں پر سیاست کی گنجائش نہیں ہے، راجا پرویز اشرف

بعد ازاں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف اظہار خیال کے لیے کھڑے ہوئے تو حکومتی نشستوں سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، راجا پرویز اشرف کے پاس آئے اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرار داد پڑھنے کا موقع فراہم کرنے کی درخواست کی۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ 'حکومت کی جانب سے گستاخانہ خاکوں پر قرار داد پیش کرنے میں تاخیر ہوئی اور اگر اپوزیشن قرار داد پیش کررہی ہے تو حکومت اس پر سیاست کررہی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'مذکورہ معاملے پر سیاست کی گنجائش نہیں ہے'۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ خواجہ آصف کی پیش کردہ قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کرایا جائے۔

قرارداد انگریزی کا مقالہ قرار

مسلم لیگ (ن) احسن اقبال نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے پڑھی گئی قرار داد کو انگریزی کا مقالہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ نے تھیسس پڑھ دیا اس قرار داد میں کوئی قابل عمل بات نہیں ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اب اندازہ ہوا کہ عالمی سطح پر پاکستان سفارتی طور پر تنہا کیوں ہے کیونکہ تھیسز کے بجائے دو حرفی بات ہونی چاہیے تھی کہ توہین ہوئی ہے، ہم فرانس سے سفیر واپس بلا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ 'شاہ محمود قریشی نے ہمیں بھارت کا ایجنڈ قرار دیا جس پر وہ معافی مانگیں'۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اس کی زبان پکڑیں گے جو ہماری پاکستانیت کو للکارے گا۔

اس دوران ڈپٹی اسپیکر نے احسن اقبال کا مائیک بند کردیا اور مائیک وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کو دے دیا۔

متفقہ قرارداد کیلئے مشاورت کرلی جائے، اسد عمر

قرارداد پیش کرنے سے قبل ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اگر ہم اپنے پیغمبر ﷺ کی حرمت کو اپنے جذبات پر ترجیح نہیں دے سکتے تو ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کرنے کے لیے بہت چیزیں مل جائیں گی لیکن خدارا اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرار داد کے حوالے سے مشترکہ مشاورت کرلی جائے جس کے لیے ایوان کو 10 منٹ کے لیے ملتوی کردیا جائے۔

جس پر ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 10 منٹ کے لیے ملتوی کردیا تھا۔

بعدازاں دوبارہ شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں گستاخانہ خاکوں سے متعلق قرار داد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پڑھی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار داد پیش

اس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انگریزی میں قرار داد پڑھ کر سنائی جس میں فرانس، ناروے اور سویڈن میں گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں بعض یورپی سیاسی رہنماؤں کی اشتعال انگیز تقاریر کو ناقابل قبول قرار دیا گیا، اس میں کہا گیا کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ایسے واقعات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔