لاہور ہائیکورٹ نے مسابقتی کمیشن کے قیام کے خلاف درخواستوں کو مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2020

ای میل

متعدد صنعتوں کی جانب سے دائر درخواست میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے قیام اور پارلیمنٹ کی اہلیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔  اے ایف پی:فائل فوٹو
متعدد صنعتوں کی جانب سے دائر درخواست میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے قیام اور پارلیمنٹ کی اہلیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اے ایف پی:فائل فوٹو

لاہور ہائیکورٹ نے مسابقت کے موضوع پر قانون سازی کے لیے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے قیام اور پارلیمنٹ کی اہلیت کو چیلنج کرنے والی تقریبا تمام فریقین کی جانب سے دائر اور طویل عرصے سے زیر التوا درخواستوں کو خارج کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان نے 2009 میں سی سی پی کی جانب سے قیمتوں کے ضوابط کے معاملے میں کارروائی کے آغاز پر ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

27 مئی 2009 کو سنگل بینچ نے ایسوسی ایشن کو حکم امتناع کی منظوری دے دی تھی اور سی سی پی کی کارروائی معطل کردی تھی۔

مزید پڑھیں: شائستہ بانو مسابقتی کمیشن پاکستان کی قائم مقام چیئرپرسن مقرر

بعدازاں دیگر صنعتوں بشمول سیمنٹ، چینی، تیل اور گیس، بجلی، کھاد، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، ٹیلی کام، ریئل اسٹیٹ اور نوزائیدہ کے لیے دودھ / جوسز نے بھی اسی حوالے سے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور کمیشن کے اقدامات کے خلاف حکم امتناع حاصل کیا تھا۔

یہ قانونی چارہ جوئی سپریم کورٹ تک پہنچ گئی جس نے 25 جون 2009 کو اس معاملے کو جلد از جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ معاملہ دوبارہ ہائی کورٹ کے حوالے کیا تھا۔

درخواستوں پر آخری مرتبہ جون 2017 میں سماعت ہوئی تھی۔

حال ہی میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس شاہد جمیل خان اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی پر مشتمل فل بینچ نے رواں سال جون میں درخواستوں پر سماعت کا دوبارہ آغاز کیا تھا اور 16 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

بینچ کے سامنے اہم سوالات یہ تھے کہ کیا پارلیمنٹ میں مسابقتی ایکٹ 2010 اور اس سے قبل 2007 سے 2009 تک کے آرڈیننس نافذ کرنے کے لیے قانون سازی کی اہلیت موجود تھی، کیا اس قانون سازی نے آئین کے آرٹیکل 175 اور 203 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک متوازی عدالتی نظام تشکیل دیا تھا اور کیا سی سی پی کے اقدامات کے خلاف صرف سپریم کورٹ کے سامنے اپیل کا دائرہ اختیار آئینی ہے؟

درخواست گزاروں کا معاملہ یہ تھا کہ فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ (ایف ایل ایل) میں کوئی اینٹری نہیں جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کو مسابقت کے موضوع پر قانون وضع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے شوگر کمیشن کیخلاف سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا

ان کا مؤقف تھا کہ پارلیمنٹ کے پاس ایسے کیسز پر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہے جو ایف ایل ایل میں شامل نہیں کیے گئے تھے کیونکہ بقیہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد اسے صوبوں کے سپرد کردیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف ایل ایل میں مقابلہ یا اجارہ داری کے موضوع پر یا کسی بھی طرح سے عدم اعتماد کی پابندیوں کے حوالے سے کوئی اینٹری نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل نے استدلال کیا کہ مقابلہ ایک وفاقی موضوع ہے اور آئین کی دفعات کے تحت پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اختیار میں آتا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک کی جانب سے لکھے گئے فیصلے میں بینچ نے درخواست گزاروں سے اتفاق نہیں کیا اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ تجارت، کامرس، صنعت کے موضوع پر قانون سازی کرسکتی ہے تاکہ اسے ملک بھر میں 'آزاد' رکھا جاسکے۔