سینیٹ: اپوزیشن کی مخالفت، پیمرا کو بااختیار بنانے کا بل منظور نہ ہوسکا

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2020

ای میل

پیمرا کو ٹی وی چینل لائسنسن جاری کرنے والی اتھارٹی کی حیثیثت سے نگرانی کا کردار ادار کرنا چاہیے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
پیمرا کو ٹی وی چینل لائسنسن جاری کرنے والی اتھارٹی کی حیثیثت سے نگرانی کا کردار ادار کرنا چاہیے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن کی مخالفت کے باعث ملازمین کو تنخواہیں ادا نہ کرنے والے ٹی وی چینلز کے خلاف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو بااختیار بنانے کا بل منظور نہ ہو سکا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما رضا ربانی نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بل پیش کرنے والے سینیٹر فیصل جاوید کی نیت پر کوئی شک نہیں کیونکہ مجوزہ قانون ٹی وی میں کام کرنے والے صحافیوں اور ان کی ملازمت کے تحفظ سے متعلق ہے۔

’تاہم‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پیمرا کا سچ کو دبانے کا ریکارڈ موجود ہے’ اور خدشہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پیمرا نے نجی چینل کے پروگرام پر ایک ماہ کی پابندی عائد کردی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں سینسر شپ اور پریس کا گلا دبایا جارہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے قانون ساز کا کہنا تھا کہ ملک میں آزادی صحافت کو غصب کیا جارہا ہے، جہاں صحافیوں کو برطرف اور اغوا کیا جارہا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ صحافیوں کا اغوا ایک مسئلہ ہے۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔

دوران اجلاس سینیٹر جاوید کا کہنا تھا کہ بل آجر اور ٹی وی کے صحافیوں کے درمیان قابل عمل معاہدوں پر دستخط، ان کی تجدید اور وسعت کو یقینی بنائے گا۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا پیمرا اور پریس کونسل کو ختم کرنے کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ قانون کام کرنے والے صحافیوں کی اجرت اور ملازمتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور پیمرا کو ٹی وی چینل لائسنسن جاری کرنے والی اتھارٹی کی حیثیثت سے نگرانی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

علاوہ ازیں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن پر کوئٹہ جلسے میں آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا جس پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

وزیر نے پی پی پی کے رہنما رضا ربانی پر الزام لگایا کہ وہ من پسند آئینی نظام پر یقین رکھتے ہیں۔

علاوہ ازیں اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد کورم کی نشاندہی کی گئی اور بل منظور نہیں ہوسکا۔


یہ خبر 27 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔