کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت ملنے تک جدو جہد کرتا رہوں گا، عمران خان

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2020

ای میل

وزیراعظم نے کہا کہ آج بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ برصغیر کے عوام کے لیے سب سے اہم چیز امن ہے—تصویر: فیس بک عمران خان
وزیراعظم نے کہا کہ آج بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ برصغیر کے عوام کے لیے سب سے اہم چیز امن ہے—تصویر: فیس بک عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی جبر اور مظالم کا سامنا کرنے والے کشمیریوں کے لیے اپنے عزم کو دہرایا ہے کہ جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حق خود ارادیت نہیں مل جاتا وہ کشمیریوں کے لیے جدو جہد کرتے رہیں گے۔

کشمیر پر بھارتی قبضے کے 73 سال مکمل ہونے پر آج 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے موقع پر اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج سے 73 سال قبل 27 اکتوبر کو بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا اور کشمیریوں سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق لے لیا۔

یاد رہے کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے برصغیر کی تقسیم سے متعلق منصوبے اور کشمیریوں کی خواہش کے خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر جابرانہ قبضہ کیا تھا۔

5 اگست 2019 کو کشمیر میں ظلم کی نئی داستان کا آغاز ہوا اور بھارت نے 9 لاکھ فوج سے 80 لاکھ کشمیریوں کا فوجی محاصرہ کردیا، ان کے تھوڑے بہت حقوق بھی غضب کرلیے گئے، سیاسی قیادت قید کردی گئی، کئی ہزار نوجوانوں کو پکڑ کر بھارت کی دیگر جیلوں میں ڈال دیا گیا اور کشمیریوں کو ایک قسم کی کھلی جیل میں محصور کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف آج یومِ سیاہ منایا جارہا ہے

وزیراعظم نے کہا کہ یہ کشمیریوں کے لیے بدقسمت وقت ہے کہ وہ نہ بھارت کے شہری ہیں اور نہ ہی انہیں اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے دیا گیا حقِ خود ارادایت استعمال کرنے دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ جب تک کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں ملے گا، میں ان کے لیے جدو جہد کرتا رہوں گا، اس کے لیے عالمی سطح اور ملکی سطح پر آواز اٹھاتا رہوں گا، سربراہان مملکت، عالمی میڈیا سے بات کر کے یاد دلاؤں کہ کشمیری عوام کے اوپر کس قدر ظلم ہورہا ہے۔

ان کا مزید کہا کہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی واضح ہے، وہاں اجتماعی قبریں دریافت ہورہی ہیں، ماورائے عدالت قتل اور میڈیا کا منہ بند کیا جارہا ہے لیکن جس طرح پاکستان میں بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کی جارہی ہے اسے بھی دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں آج بھی بھارت کو کہتا ہوں کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مجھے اقتدار ملا تو میں نے ایک ہی بات کہی کہ آپ ہماری جانب ایک قدم بڑھائیں ہم 2 قدم آپ کی طرف بڑھائیں گے۔

مزید پڑھیں: ’پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا‘ صدرِ مملکت، وزیراعظم کا یومِ سیاہ پر پیغام

انہوں نے کہا کہ آج بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ برصغیر کے عوام کے لیے سب سے اہم چیز امن ہے جس سے خوشحالی آتی ہے۔

وزیراعظم نے دہرایا کہ ہم (بات چیت کے لیے) تیار ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو کشمیر کا فوجی محاصرہ ختم کرنا پڑے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حق خود ارادیت دینا ہوگا تا کہ وہ خود اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں۔