ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں، عمر ایوب

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2020

ای میل

وزیر توانائی کے مطابق سندھ حکومت گیس کے سات فیصد ذخائر سے محروم ہونے کے باوجود بھی اس کے بارے میں فیصلہ نہیں کر رہی  - فوٹو:اے پی پی
وزیر توانائی کے مطابق سندھ حکومت گیس کے سات فیصد ذخائر سے محروم ہونے کے باوجود بھی اس کے بارے میں فیصلہ نہیں کر رہی - فوٹو:اے پی پی

حیدرآباد: وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے علاقے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قدرتی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں اور اب گیس کی اوسط قیمت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گیس کے 7 فیصد ذخائر سے محروم ہونے کے باوجود بھی اس کے بارے میں فیصلہ نہیں کر رہی۔

یہ بات انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے قانون سازوں، ان کی اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کے رہنماؤں اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیسکو) کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی صابر قائم خانی، رکن پارلیمنٹ راشد خلجی، پی ٹی آئی کے کراچی سے ایم پی اے حلیم عادل شیخ اور خرم شیر زمان بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: سندھ میں موسم سرما کے دوران گیس کی شدید قلت کا امکان

انہوں نے کہا کہ حکومت کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی طرف سے یہ بحران وراثت میں ملا ہے، ان دونوں حکومتوں کے غیر پیشہ ورانہ فیصلوں نے پاکستان اسٹیل ملز، گیس یوٹیلیٹی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں وغیرہ کو تباہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی نے اپنی مدت پوری کی تو زرمبادلہ کے ذخائر صرف دو ماہ کے باقی رہ گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف زرداری کی زیرقیادت حکومت نے 7 کھرب روپے کا قرض چھوڑا تھا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2018 میں اپنی مدت پوری ہونے پر اسے بڑھا کر 30 کھرب روپے کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی مدت پوری کرنے پر صرف دو ہفتوں کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑے تھے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، 'آج اس میں مثبت رجحان دیکھا جارہا ہے'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی کی حکومت نے روپے کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ کو برقرار رکھنے کے لیے 24 ارب ڈالر خرچ کئے۔

گیس کی تلاش کے لیے 20 نئے بلاکس

عمر ایوب نے کہا کہ گیس کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں اٹھایا گیا تھا جہاں حکومت سندھ نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس کافی ذخائر ہیں 'در حقیقت اس سال سندھ کے ذخائر میں خسارہ ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دونوں حکومتوں نے نئے بلاکس کی کھدائی نہیں کی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے 20 بلاکس کی نیلامی کردی ہے 'اس کے اثرات پانچ سال کے بعد دیکھنے کو ملیں گے'۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس کی موجودہ قلت کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ذریعے قلیل المدتی بنیاد پر پورا کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاک ڈاؤن کے دوران گیس کمپنی پر بڑھا چڑھا کر بل بھیجنے کا الزام

ان کا کہنا تھا کہ کسی حد تک قلت کو دور کرنے کے لیے شمالی اور جنوبی پائپ لائنیں ڈال کر روسی حکومت کے اشتراک سے دو ایل این جی ٹرمینلز قائم کیے جائیں گے۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ 'گیس کی قلت صرف نئے ذخائر کی دریافت کے ساتھ ہی ختم ہوگی'۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی وزن کی اوسط قیمت کا تعین مقامی گیس اور ایل این جی کے لیے طے کرنا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'اگر قیمت کا تعین کیا جائے تو ہم بحران کے مسئلے سے نکل جائیں گے، کوئی پوچھے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے کے لیے کیوں کام نہیں کیا'۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ 'ماضی کی حکومتیں پرانے ہی بلاکس میں کھدائی کرنے کا انتخاب کر رہی تھیں جو تکنیکی طور پر ممکن نہیں، سندھ کے ذخائر میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیر منظم گیس کی طلب 7.5 ارب مکعب فٹ ہے جبکہ پیداوار صرف 3.5 ارب مکعب فٹ ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 1.2 ارب مکعب فٹ ایل این جی سے پورا کیا جائے گا جبکہ باقی فرق سے گیس کا بحران پیدا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ درآمدی گیس کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے 'نئے ذخائر کی دریافت میں پانچ سال لگیں گے، ہمیں توقع ہے کہ ہم اس کمی کو پورا کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ سی سی آئی میں گیس کی قلت پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ اس سال سندھ میں ذخائر کم ہونا شروع ہوجائیں گے جبکہ 4 اور 5 سالوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ذخائر بھی کم ہونے لگیں گے۔ ‘

'غلط معاہدوں پر دستخط کیے گئے'

وزیر توانائی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دونوں حکومتوں نے غلط معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حکومتوں نے شمسی، ہوا اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے درآمدی توانائی کو ترجیح دی تھی، تقریبا 70 فیصد توانائی درآمدی ایندھن کے ذریعے پیدا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے شمسی توانائی کے لیے 6.50 روپے اور 3.75 روپے فی یونٹ قیمت پر ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جبکہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے اسی طرح کے معاہدے پر بالترتیب 18 اور 24 روپے فی یونٹ پر دستخط کیے تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی کو گیس، بجلی کی فراہمی میں بہتری کی یقین دہانی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) عوامی جلسوں کا انعقاد کر سکتی ہے لیکن اتحاد کے قائدین کی تقاریر میں 'غداری' کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی، اس کے اتحادی اور عوام پی ڈی ایم کو جوابدہ رکھیں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ 'پی ڈی ایم وہاں اپنی چوری کو چھپانے، پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے اور اپنے مفادات کے لیے وہاں موجود ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو تبدیلی کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے وہ تحریک انصاف کی حمایت کر رہے ہیں۔

'حیدرآباد کے مسائل کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے'

وفاقی وزیر نے کہا کہ حیدرآباد کو پیپلز پارٹی کے زیر اثر واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کی نااہلی کی وجہ سے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی افسوس ناک صورتحال دیکھی جارہی ہے یہ شہر اور علاقے 50 سال پہلے بہتر حالت میں تھے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہیسکو انتظامیہ مزید گرڈ اسٹیشنز، آزاد فیڈرز، نئے ٹرانسفارمرز اور چار ورکشاپس کی تنصیب کے لیے سفارشات پیش کرے گی جن کی مالی امداد وفاقی حکومت کرے گی تاکہ خطے میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ چند نادہندگان کی وجہ سے پورے علاقے کو سپلائی منقطع کرنے سے ہیسکو کو روک دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کی چوری کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور کاروباری برادری بھی اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے۔