سندھ میں موسم سرما کے دوران گیس کی شدید قلت کا امکان

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

عمر ایوب نے کہا کہ سندھ حکومت کی اجازت ملی تو 150 ایم ایم سی گیس فراہم کرسکتے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
عمر ایوب نے کہا کہ سندھ حکومت کی اجازت ملی تو 150 ایم ایم سی گیس فراہم کرسکتے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد وفاقی حکومت نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ آئندہ موسم سرما کے دوران سندھ کو پنجاب سے زیادہ گیس کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے اور صنعتوں کی ممکنہ بندش کے علاوہ عوام بالخصوص کراچی کے عوام کی مشکلات کا ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرایا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر توانائی عمر ایوب کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ کراچی میں مختلف شعبوں کے لیے گیس جمع کرونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد بشمول ٹیکسٹائل سیکٹر کے ایک وفد کو کہا گیا کہ وہ پائپ لائنز بچھانے کے لیے اپنے اثر رسوخ کا استعمال کریں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹرز کو اچھے آرڈرز مل رہے ہیں اور وفاقی حکومت انہیں گیس مہیا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی تاہم کھانا پکانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس فراہمی میں ترجیح دی جائے گی۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ سندھ حکومت 17 کلومیٹر گیس لائن بچھانے کی اجازت نہیں دے رہی، اگر اجازت ملی تو گیس کی کمی کسی حد تک پوری کرسکیں گے جبکہ شعبے کے گردشی قرضے 250 ارب تک پہنچ گئے ہیں۔

پریس کانفرنس میں وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ سندھ میں اس وقت گیس کی کمی 250 ایم ایم سی ایف ڈی آرہی ہے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ یہ چیز آرٹیکل 158 سے آگے چلی گئی ہیں اور اسی وجہ سے وزیراعظم نے کانفرنس بلائی تھی جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور ان کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی کو گیس، بجلی کی فراہمی میں بہتری کی یقین دہانی

ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی تجویز پر اس کانفرنس کا مقصد تھا کہ پاکستان میں آگے جاکر گیس کی قیمت مقرر کرنے کے طریقے پر اتفاق رائے پیدا کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ ہم تقریباً ڈیڑھ سال سے بات کر رہے ہیں کہ 17 کلومیٹر کے ایک حصے میں گیس کی پائپ لائن بچھانی ہے لیکن سندھ حکومت نے بدقسمتی سے اب تک اس کی اجازت نہیں دی۔

وفاقی وزیر کا کہنا کہ سندھ حکومت اس 17 کلومیٹر لائن بچھانے کی اجازت دیتی ہے تو ہم جلد ازجلد اس کو پورا کرکے نظام میں 150 ایم ایم سی گیس ڈال سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپنی گیس کی کمی ہے اس لیے درآمد کرنی پڑتی ہے اور اس وقت گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 250 ارب روپے ہے، جس کی وجہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیاں ہیں۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ آگے جا کر گیس کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار پر ہمیں باہمی اشتراک سے معاہدہ کرنا پڑے گا اور فوراً ہمیں منصوبہ بندی کرکے کام میں تیزی لانا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:آئندہ سال سندھ کو گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا، وزیر توانائی

کراچی میں گیس پریشر کم ہے، ندیم بابر

اس موقع پر ندیم بابر نے کہا کہ سندھ میں خاص کر کراچی میں گیس کا پریشر کم ہے اور شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس سوئی سدرن گیس پائپ لائن سسٹم میں تقریباً 1120 سے 1150 ملین کیوبک فٹ گیس شامل ہورہی تھی لیکن آج یہ نمبر گر کر 960 سے 970 پر آگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پورے سال کی شرح نکالی جائے تو 140 سے 150 ملین کیوبک فٹ پیداوار میں کمی ہے جبکہ سوئی سدرن کے لیے طلب میں 100 کا اضافہ ہوا ہے اور 250 کی کمی آرہی ہے۔

ندیم بابر نے کہا کہ سوئی ناردرن میں کمی نہیں آرہی جبکہ دونوں کمپنیوں میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ سوئی سدرن یا سندھ میں یہ پوزیشن رہی ہے کہ ہم مقامی گیس استعمال کریں گے اور ایل این جی استعمال نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پچھلے جون سے کے الیکٹرک کے لیے اوسطاً 100 بلین کیوبک فٹ ایل این جی کی فراہمی شروع کی ہے اور ابھی 110 ہے لیکن اوسطاً 100 بلین کیوبک فٹ ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ڈھائی سو کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہم 100 بلین کراچی الیکٹرک کو دے کر مسائل کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ورنہ حالات مزید خراب ہوتے۔