کراچی کو گیس، بجلی کی فراہمی میں بہتری کی یقین دہانی

اپ ڈیٹ 11 اگست 2020

ای میل

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کراچی سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں کو ہفتہ وار گیس کی تعطیل ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کراچی سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں کو ہفتہ وار گیس کی تعطیل ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

کراچی: وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کراچی سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں کو ہفتہ وار گیس کا تعطیل ختم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت شہر کی طلب کو پورا کرنے کے لیے 211 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی بحالی پر کام کر رہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز گورنر ہاؤس میں کراچی انڈسٹریل فورم کے ممبران سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ حکومت قومی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے گیس کی تلاش کے طویل المدتی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے برآمدات کے شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں 7.5 سینٹس فی کلو واٹ فی گھنٹہ پر عمل درآمد نہ کرنے کے معاملے کو غور کرنے اور اس کو حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: بجلی بحران: کے-الیکٹرک سسٹم اپ گریڈنگ میں ناکامی پر مسائل کا شکار ہے، وزارت توانائی

عمر ایوب خان نے صنعت کاروں کو آگاہ کیا کہ حکومت توانائی کا متبادل حل لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس کے برعکس گزشتہ روز ہی وزیر توانائی نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے پینل کے سامنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ موسم سرما کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی کیونکہ مقامی گیس کی پیداوار میں کمی آرہی ہے جب کہ مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 3.5 بی سی ایف ڈی کی کل مقامی پیداوار کے برعکس مجموعی طلب 7 بی سی ایف ڈی سے زیادہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خسارہ مہنگے درآمدی گیس سے پُر ہورہا تھا تاہم حکومت درآمدی گیس پر سبسڈی دے رہی ہے جس سے گردشی قرضے بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بجلی کے نرخ بڑھا دیے

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال سے سندھ میں بھی اضافی گیس نہیں ہوگی اور صوبہ اپنی پیداوار سے اپنی طلب کو پورا نہیں کر سکے گا۔

دوسری جانب گزشتہ ماہ کراچی میں بجلی کی طویل بندش کو مارکیٹ میں فرنس آئل کی کمی کا ذمہ دار قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے وزارت توانائی نے کہا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیاں اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

وزارت توانائی کے ترجمان نے ایک جاری بیان میں کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کے الیکٹرک نے اپنے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے میں سرمایہ کاری نہیں کی جس کی وجہ سے طلب عروج پر پہنچے کے وقت اسے مشکلات کا سامنا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'وفاقی حکومت کراچی کے رہائشیوں کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے'۔