گستاخانہ خاکوں پر فرانسیسی صدر کی حمایت احمقانہ، توہین آمیز حرکت ہے، ایران

28 اکتوبر 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ کیا اظہار رائے کی آزادی کا مطلب مقدس شخصیت کی توہین ہے؟—فائل فوٹو: اے پی
انہوں نے کہا کہ کیا اظہار رائے کی آزادی کا مطلب مقدس شخصیت کی توہین ہے؟—فائل فوٹو: اے پی

ایران نے گستاخانہ خاکوں سے متعلق فرانسیسی صدر کی حمایت کو 'احمقانہ حرکت' قرار دیا ہے۔

غیرملکی خبررساں رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ایران کے اعلی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ایمانوئیل میکرون کا عمل احمقانہ ہے اور ان کی توہین ہے جنہوں نے فرانسیسی صدر کو ووٹ دیا۔

مزیدپڑھیں: ترک صدر کا فرانسیسی صدر کو 'دماغی معائنہ' کرانے کی تجویز

انہوں نے اپنے خطاب میں فرانسیسی عوام کو مخاطب کیا کہ 'اپنے صدر سے پوچھیں کہ وہ آزادی اظہار کے نام پر اللہ کے رسول کی توہین کرنے کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ کیا اظہار رائے کی آزادی کا مطلب مقدس شخصیت کی توہین ہے؟

ایرانی کے روحانی پیشوا نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا ذکر کرتے ہوئے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر 'فرانسیسی نوجوانوں' سے خطاب میں کہا کہ 'کیا احمقانہ عمل ان لوگوں کے لیے باعث توہین نہیں جنہوں نے فرانسیسی صدر کو ووٹ دے کر منتخب کیا۔

دوسری جانب کویت کی کنزیومر کوآپریٹو سوسائٹیوں کی یونین نے کہا ہے کہ اس کے 69 اسٹوروں میں سے 60 نے فرانسیسی مصنوعات کی فرخت کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

یونین کے سربراہ نے کہا کہ جب تک حضرت محمد ﷺ کے خلاف توہین آمیز رویہ ترک نہیں کیا جاتا اس فیصلے پر نظر ثانی کی گنجائش نہیں رہتی۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ 'کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں آنے والے دنوں میں مزید دباؤ بڑھایا جائے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم فرانس کی مصنوعات اور برانڈز کی مارکیٹنگ بند کردیں گے'۔

خیال رہے کہ فرانس، یورپ میں مسلم اقلیتی آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 50 لاکھ یا اس سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق صرف 2015 میں عوامی مقامات میں چہرے کے مکمل نقاب پر 223 جرمانے عائد کیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے فرانس کی جانب سے مسلمانوں کے پورے چہرے کے نقاب پر عائد پابندی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

فرانسیسی صدر کا متنازع بیان

واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔

جس کے چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کا سر قلم کردیا تھا جسے پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر قتل کردیا تھا اور اس معاملے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ترک صدر کا فرانسیسی صدر کو 'دماغی معائنہ' کرانے کی تجویز

مذکورہ واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو 'ہیرو' اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کو 'مجسم' بنانے والا قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پیرس میں مذکورہ استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی تھی جس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا، وزیراعظم

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیان سامنے آیا ہو، رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے فرانس کے سیکیولر "بنیاد پرست اسلام" کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی اور اس دوران اسلام مخالف بیان بھی دیا تھا۔

ایمانوئیل میکرون نے فرانس کی سیکیولر اقدار کے 'بنیاد پرست اسلام' کے خلاف 'دفاع' کے لیے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسکولوں کی سخت نگرانی اور مساجد کی غیر ملکی فنڈنگ کے بہتر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ممالک کا نام لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ فرانس میں 'اسلام کو غیر ملکی اثرات سے آزاد' کروانا ضروری ہے۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے، حکومت مساجد کی غیر ملکی مالی اعانت کے بارے میں جانچ پڑتال کرے گی اور اماموں کی تربیت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے یا فرانسیسی سرزمین پر غیر ملکی مبلغین کی میزبانی پر پابندی لگائے گی۔

مزید پڑھیں: جامعۃ الازھر کی اسلام کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے بیان کی مذمت

جس پر ردِعمل دیتے ہوئے مصر کے ممتاز اسلامی ادارے جامعۃ الازھر کے اسکالرز نے ''اسلام پسند علیحدگی'' کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے بیان کو 'نسل پرستانہ' اور 'نفرت انگیز' قرار دیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ فرانسیسی ہفتہ وار میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔