ریکوڈک کیس: بلوچستان ہائی کورٹ سے 4 ملزمان کی عبوری ضمانت منظور

07 نومبر 2020

ای میل

احتساب عدالت نے ملزمان کو 18 نومبر کو طلب کیا تھا—فائل فوٹو: ٹیتھیا کاپر کمپنی
احتساب عدالت نے ملزمان کو 18 نومبر کو طلب کیا تھا—فائل فوٹو: ٹیتھیا کاپر کمپنی

بلوچستان ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے قومی خزانے کو مبینہ طور پر اربوں روپے کا نقصان پہنچانے پر دائر ریکوڈک منصوبہ ریفرنس میں نامزد حکومت بلوچستان کے سابق 4 عہدیداروں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندو خیل نے کیپٹن (ر) فرید الدین، شاہزیب خان مندوخیل، باری داد اور محمد طاہر کی جانب سے وکیل ولی خان کے توسط سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی۔

درخواست پر سماعت کے بعد عداالت نے چاروں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک ریفرنس: احتساب عدالت نے 25 ملزمان کو 18 نومبر کو طلب کرلیا

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو نے 4 نومبر کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا جس کے اگلے ہی روز عدالت نے 25 ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18 نومبر کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

نیب کے مطابق بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور آسٹریلین کمپنی بروکن ہِل پروپرائیٹی کے درمیان 1993 میں چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر معاہدہ پر دستخط کیے گئے تھے۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ بدعنوان افسران بالخصوص بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے آسٹریلین کمپنی کو غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچایا۔

ریفرنس کے مطابق مذکورہ بالا معاہدے کی شرائط کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد مرتبہ غیر قانونی ذیلی معاہدے کر کے اور ایک نئی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو متعارف کروا کر بلوچستان میں کان کانی میں رعایت سے متعلق قواعد میں غیر قانونی طور پر ترمیم کی گئی جو قومی مفاد کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں: ریکوڈک کیس: نیب نے سرکاری افسران، غیر ملکی کمپنیوں کے خلاف ریفرنس دائر کردیا

نیب کا کہنا تھا کہ اراضی کی الاٹمنٹ اور دیگر معاملات میں ریونیو ڈپارٹمنٹ کے افسران کی جانب سے سنگین بے ضابطگیاں کی گئیں اور ملزمان نے مالی فوائد حاصل کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

نیب کے ترجمان کے مطابق گواہان کے بیانات اور ریکارڈ سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ ٹی سی سی آپریٹوز حکومتی ملازمین کو رشوت دینے اور غیر قانونی فوائد حاصل کرنے میں ملوث تھے۔

ریفرنس میں نامزد ملزمان میں بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کے سابق چیئرمین محمد فاروق، محکمہ کان کنی کے سابق اے جی ایم محمد طاہر، سابق سیکریٹری مقبول احمد، بلوچستان بورڈ آف ریونیو (بی بی آر) کے سابق سیکریٹری شیخ عظمت اللہ، سینئر رکن شہباز خان مندوخیل، بلوچستان کے سابق سیکریٹری کلے بخش رند، بی ڈے اے کے سابق اے جی ایم پلاننگ مسعود احمد ملک، کرنل (ر) شیر خان، کیپٹن (ر) فرید الدین، عطا محمد جعفر اور عامر علی برق شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک: اربوں ڈالر کا راز

ان کے علاوہ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی پی) کے سابق انتظامی افسر بری داد، ڈائریکٹر ٹی سی سی پی مسلم لاکھانی، بی ایچ پی منرلز کے ایسپلوریشن منیجر کرسٹوفر رابرٹ، بی ایچ پی منرلز کے سی ای او/پروگرام منیجر جان پی شریڈر، ڈائریکٹر ٹی سی سی پی ڈیوڈ چارلس، ٹموتھی جیمز، جوز ایڈوارو فلورز، ہیوگ آر جیمز، کیتھرین جین بوگس اور پیٹر آ ریک کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔