ریکوڈک کیس: نیب نے سرکاری افسران، غیر ملکی کمپنیوں کے خلاف ریفرنس دائر کردیا

اپ ڈیٹ 05 نومبر 2020

ای میل

کئی سالوں پر محیط تفتیش کے دوران متعدد سرکاری محکموں کی اسکروٹنی کی گئی—فائل فوٹو: ٹیتھیان کاپر کمپنی
کئی سالوں پر محیط تفتیش کے دوران متعدد سرکاری محکموں کی اسکروٹنی کی گئی—فائل فوٹو: ٹیتھیان کاپر کمپنی

قومی احتساب بیورو (نیب) نے ریکوڈک منصوبہ کیس میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں 26 افراد کے خلاف ریفرنس دائر کردیا۔

نیب نے ریفرنس میں حکومت بلوچستان کے سابق افسران اور بین الاقوامی کمپنیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ریفرنس ملزمان کے خلاف شواہد کی روشنی میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد کوئٹہ کی احتساب عدالت میں دائر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک: اربوں ڈالر کا راز

نیب بلوچستان کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور آسٹریلین کمپنی بروکن ہِل پروپرائیٹی کے درمیان 1993 میں چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر معاہدہ پر دستخط کیے گئے تھے۔

ترجمان نیب نے بتایا کہ بدعنوان افسران بالخصوص بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے آسٹریلین کمپنی کو غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا معاہدے کی شرائط کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد مرتبہ غیر قانونی ذیلی معاہدے کر کے اور ایک نئی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو متعارف کروا کر بلوچستان میں کان کانی میں رعایت سے متعلق قواعد میں غیر قانونی طور پر ترمیم کی گئی جو قومی مفاد کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں: ریکوڈک معاملے پر حکم امتناع بینک ضمانت سے مشروط

ترجمان نیب کا کہنا تھا کہ اراضی کی الاٹمنٹ اور دیگر معاملات میں ریونیو ڈپارٹمنٹ کے افسران کی جانب سے سنگین بے ضابطگیاں کی گئیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملزمان نے مالی فوائد حاصل کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

ترجمان نیب کے مطابق گواہان کے بیانات اور ریکارڈ سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ ٹی سی سی آپریٹوز حکومتی ملازمین کو رشوت دینے اور غیر قانونی فوائد حاصل کرنے میں ملوث تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالر جرمانہ، پاکستان نے امریکی عدالت سے رجوع کرلیا

انہوں نے کہا کہ ان بدعنوان عناصر کی وجہ سے ریکوڈک منصوبہ، جس کے ذریعے ملک کو اربوں روپے کی آمدن ہونے کا امکان تھا، وہ مطلوبہ مالی نتائج نہیں دے سکا۔

خیال رہے کئی سالوں پر محیط تفتیش کے دوران متعدد سرکاری محکموں کی اسکروٹنی کی گئی جبکہ سوالات کے لیے بیرونِ ملک ملزمان کو بھی متعدد مرتبہ طلب کیا گیا۔


یہ خبر 5 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔