ریکوڈک: اربوں ڈالر کا راز

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2015

ای میل

ماہرینِ ارضیات کے مطابق اس علاقے میں موجود معدنیات کی قدر و قیمت ایک سے 3 کھرب ڈالر کے درمیان ہے — فوٹو tethyan.com
ماہرینِ ارضیات کے مطابق اس علاقے میں موجود معدنیات کی قدر و قیمت ایک سے 3 کھرب ڈالر کے درمیان ہے — فوٹو tethyan.com

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے درمیان بلوچستان کی ریکو ڈک کان پر جاری تنازع اب عدالت سے باہر تصفیے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 2013 میں جاری کردہ اپنے ایک حکم میں بلوچستان حکومت اور آسٹریلیا کی کان کن کمپنی بی ایچ پی کے درمیان 1993 میں طے پانے والے چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر ایگریمنٹ (CHEJVA) کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔

بی ایچ پی نے اپنے شیئرز ایک غیر معروف کمپنی ٹی سی سی کو دے دیے تھے، جس نے کان کا انتظام 2008 میں کیس شروع ہونے سے پہلے تک چلایا۔

کورٹ کی کارروائی چلتی رہی، اور اسی دوران ٹی سی سی نے سرمایہ کاری کے تنازعوں کے حل کے عالمی ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈیسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا اور سب سے پہلے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ لیکن آئی سی ایس آئی ڈی نے بھی اس کے حقِ ملکیت کے دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

اس کے بعد کمپنی نے سرمایہ کاری کے نقصانات کے ازالے کے لیے دلائل دیے، جو کہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر کے برابر ہیں، اور لگتا ہے کہ کمپنی کیس کو اس کے حق میں فیصلے تک لے جانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ لیکن اسی وقت یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ کمپنی تصفیے پر راضی ہونے کی بھی خواہشمند ہے، بشرطیکہ اسے اس منافع بخش پراجیکٹ میں باقی رکھا جائے۔

پڑھیے: ریکوڈک گولڈ مائنز معاہدہ کالعدم قرار

اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس بڑے پیمانے پر بلوچستان حکومت کی جانب سے ہینڈل کیا جارہا ہے، جس پر وفاق کی جانب سے عدالت سے باہر تصفیے کے لیے زور ڈالا جارہا ہے۔ جب اپوزیشن پارلیمنٹیرینز کی جانب سے حکومت پر کانیں ٹی سی سی کو دینے کا الزام عائد کیا گیا، تو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریکوڈک کا ایک پتھر بھی نہیں بیچیں گے۔

تو پھر ریکو ڈک ہے کیا؟ ایٹمی دھماکے کے لیے مشہور ضلع چاغی کا ایک چھوٹا سا قصبہ؟ جب بی ایچ پی نے ریکو ڈک کی کانوں کو دریافت کیا، تب سے یہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ 1993 میں اس وقت کے نگران وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے CHEJVA معاہدے پر دستخط کر کے بی ایچ پی کو چاغی کی پورے علاقے میں کھوج کے حقوق دے دیے تھے۔ یہ ان انتظامی فیصلوں کا آغاز تھا، جس سے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔

اس معاہدے نے بی ایچ پی کو 33 لاکھ ایکڑ کے علاقے میں اگلے 56 سال تک ہونے والی تمام دریافتوں میں 75 فیصد حصے کا حقدار قرار دیا، اور بلوچستان حکومت کو مشترکہ سرمایہ کاری کی بنیاد پر صرف 25 فیصد حصہ ملا، اور 2 فیصد رائلٹی۔

1993 سے 1997 کے درمیان جاری کھوج میں 14 ممکنہ علاقوں کی نشاندہی کی گئی جن میں کُل 48 جگہوں پر کھدائی کی جاسکتی تھی۔ اس پورے علاقے کو ریکو ڈک کمپلیکس کا نام دیا گیا۔

بی ایچ پی نے معدنیات کی کھوج کے لیے لائسنس حاصل کیا، اور یہاں موجود سائٹ EL-5 میں کم گہری کھدائی پر ہی سونے اور تانبے کے ذخائر دریافت ہو گئے۔

کھلا ڈاکہ؟

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق قانون ساز نعیم اعوان کے مطابق یہی وہ موقع تھا جب عالمی کان کن کمیونٹی کو ریکو ڈک کی اہمیت کا اندازہ ہوا، اور انہوں نے فوراً لیکن خاموشی سے اپنے مفادات حاصل کرنے کا آغاز کر دیا۔ نعیم اعوان ہی کی پٹیشنز پہلی بار اس مسئلے کو سپریم کورٹ کے نوٹس میں لائی تھیں۔

نعیم اعوان نے کہا کہ تب سے اب تک جو بھی کیا جا رہا ہے، وہ ڈاکے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، جبکہ جن لوگوں کو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے، وہ نظریں چرانے میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیے: ریکوڈک کی داستان

جیولاجیکل لٹریچر اور ماہرین کے ساتھ انٹرویوز سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ضلع چاغی ٹیتھیان میگمیٹک آرک نامی ایک ایسی پٹی کا حصہ ہے، جو یورپ سے منگولیا تک ہزاروں کلومیٹرز پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ پٹی نایاب معدنیات کے لیے مشہور ہے، جن میں پاکستان کا حصہ چاغی سے شمالی وزیرِستان تک کے نیچے ہے۔

مختلف جیولاجیکل اداروں، بشمول امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق اس پورے بلاک کی قدر و قیمت 1 سے 3 کھرب ڈالر کے درمیان ہے۔ کچھ ماہرینِ ارضیات کے مطابق یہ اندازہ بہت ہی کم ہے، کیونکہ اس اندازے میں وہ معدنیات شامل نہیں جو نئے شعبوں جیسے کہ نینو ٹیکنولاجی اور سیمی کنڈکٹر فزکس میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

کچھ سوالات

اس پوری صورتحال میں، اور قریب موجود سیندک کی کانوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس بات کی کافی امید تھی کہ ضلع چاغی میں سونا دریافت ہوسکتا ہے۔ تو پھر آخر کیوں 25/75 کی ڈیل کی گئی جبکہ اس سے پہلے سیندک میں بدنام چینی کمپنی کے ساتھ 50/50 کی ڈیل کی گئی تھی؟ اس کے علاوہ ایسا معاہدہ جو معین قریشی کے غیر منتخب، قائم مقام نگران سیٹ اپ نے کیا تھا، اسے کسی سوال کے بغیر 2008 تک کیسے جاری رہنے دیا گیا؟ یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ آخر کیوں ریکو ڈک کے ذخائر کی کوئی آزادانہ جانچ کیوں نہیں کروائی گئی ہے۔

یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ٹی سی سی بھی کچھ چھپا رہی ہے۔

ٹی سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق ریکو ڈک کا 'اقتصادی طور پر قابلِ کان کن حصہ' 2.2 ارب ٹن ہے، جس میں اوسطاً تانبہ 0.53 فیصد ہے جبکہ سونے کی مقدار 0.3 گرام فی ٹن ہے۔' اس کا مطلب ہے کہ ایک کروڑ ٹن تانبہ اور ایک کروڑ تیس لاکھ اونس سونا نکالے جانے کے قابل ہے۔

لیکن ٹی سی سی کے ماہرینِ ارضیات کی ایک اور تحقیق، جسے 2008 میں سوسائٹی آف جیولاجسٹس نے شائع کیا تھا، کے مطابق ریکو ڈک میں موجود تانبے اور سونے کے ذخائر اعلیٰ ترین کوالٹی کے ہیں، اور یہاں پر ایک کروڑ 80 لاکھ ٹن تانبہ اور 3 کروڑ 20 لاکھ اونس سونا موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹی سی سی اپنی ویب سائٹ پر تانبہ 80 لاکھ ٹن اور سونا ایک کروڑ 90 لاکھ اونس کم بتا رہی ہے۔

لیکن یہ کمتر اندازہ بھی اسے دنیا کی دسویں بڑی کان کے درجے پر لانے کے لیے کافی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے ایک جامع جانچ اسے دنیا کی بڑی کانوں کی فہرست میں کم از کم پانچویں نمبر پر تو لا ہی سکتی ہے۔

حیران کن: پاکستان کا اوپن ایئر میوزیم

یہ سب کیوں کیا جارہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بی ایچ پی کا شیئر Mincor Resources NL نے ٹیک اوور کر لیا تھا، جو کہ دنیا کی بڑی کان کن کمپنیوں میں سے ہے، اور اس نے ٹی سی سی کو اپنے چہرے کے طور پر قائم کیا۔ کمپنی کو بعد میں اسرائیلی کینیڈین کمپنی بارِک گولڈ نے حاصل کر لیا تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہی ٹی سی سی کے پیچھے موجود حقیقی طاقت ہے، اور یہی رسک میں حصے داری کے لیے چلی کی کمپنی Antofagasta کو لائی تھی۔

بارِک گولڈ دنیا کی سب سے بڑی کان کن فرم ہے، اور Antofagasta کے ساتھ اس نے ریکو ڈک کے 75 فیصد کو سپریم کورٹ کی مداخلت تک کنٹرول کیا۔

حالیہ اندازے، جو کہ نہایت محتاط اندازے تصور کیے جاتے ہیں، کے مطابق ریکو ڈک کا ریوینیو 40 سال کے دوران 240 سے 260 ارب ڈالر کے درمیان ہونا چاہیے۔ اس میں پاکستان کا حصہ قومی جی ڈی پی میں ڈیڑھ ارب ڈالر کے اضافے کا سبب بنے گا۔

لیکن ٹی سی سی کی آفر 30 سال کے عرصے میں 54 ارب ڈالر کی تھی، جس میں ایک شِق یہ بھی شامل تھی کہ وہ تمام خام سونے اور تانبے کو 'ریفائننگ' کے لیے پاکستان سے باہر لے جائے گی۔

اس پس منظر کو دیکھا جائے تو یہ بات بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے کہ آخر کیوں پاکستان کی قیادت ان کانوں کو بیچنے کی جلدی میں ہے، جو کہ پاکستان کی ابتر اقتصادی صورتحال کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 23 جنوری 2015 کو شائع ہوا۔