کورونا وائرس: معاشی سرگرمیاں معطل ہونے کے باوجود گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں مسلسل اضافہ

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

ترقی پذیر اور ترقی یافتہ مملک معیشتوں کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں—فائل فوٹو
ترقی پذیر اور ترقی یافتہ مملک معیشتوں کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں—فائل فوٹو

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث معاشی سرگرمیاں معطل ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والی گرین ہاؤس میں رواں برس ریکارڈ اضافے کا امکان ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اےایف پی' کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا کہ گزشتہ برس گرین ہاؤس گیسز میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا جو موسم میں غیرمعمولی تغیر کا باعث بنتی ہیں۔

مزید پڑھیں: گرین ہاؤس گیسز کا خاتمہ، 200ممالک معاہدے پر متفق

عالمی محکمہ موسمیات کی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے سربراہ پیٹیری طلاس نے متعدد ممالک کی جانب سے ماحولیات سے مطابقت رکھنے والی ٹیکنالوجی پر توجہ دینے کے عزم کا خیر مقدم کیا۔

واضح رہے کہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کورونا وائرس کے بحران کے بعد اپنی معیشتوں کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیٹیری طلاس نے نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پیرس معاہدے میں واپس آنے کے وعدے پر امید کا اظہار کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ 'ماحولیاتی آلودگی کے سدباب سے متعلق پیرس معاہدے میں امریکا کی واپسی سے مثبت تاثر ملے گا اور دیگر ممالک بھی اس کا حصہ بنیں گے'۔

یہ بھی پڑھیں: فضا میں گرین ہاؤس گیسز ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے ان خیالات کو مسترد کردیا کہ لاک ڈاؤن اور وبائی امراض کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے دیگر اقدامات حالیہ دہائیوں میں گرین ہاؤس گیسز کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو خود بخود ٹھیک کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال گرین ہاؤس گیسز کا اخراج نسبتاً کم ہے لیکن درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بننے والی گرین ہاؤس گیسز کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گرین ہاؤس گیسز کی وجہ سے درجہ حرارت، سمندر کی سطح میں اضافہ اور زیادہ شدید موسم ہوگا۔

سربراہ پیٹیری طلاس نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی سے طویل مدتی گراف پر بہت معمولی سا فرق پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑھتے ہوئے درجہ حرات کو کم کرنے کے لیے مستحکم طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: 200 ممالک کا ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا معاہدہ

ڈبلیو ایم او کے مطابق کورونا وائرس کے باعث معطل معاشی سرگرمیوں کے باعث گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں صرف 17 فیصد فرق پڑا ہے۔

واضح رہے کہ 2018 میں کرہ ارض میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گرین ہاؤس گیسز کا اخراج بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

اس سلسلے میں سب سے گرم ترین سال 2016 قرار دیا گیا تھا لیکن 2017 بھی کچھ بہتر نہیں رہا اور اس میں بھی دنیا کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زائد ریکارڈ ہوا۔

2018 کی رپورٹ کے مطابق عالمی طور پر سالانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ارجنٹینا، بلغاریہ، اسپین اور یوراگوائےمیں رہا اور میکسکو میں مسلسل چوتھی مرتبہ سالانہ درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹا تھا۔

اس سے قبل افریقی ملک روانڈا میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں 200 ممالک ریفریجریٹر اور ایئرکنڈیشنر میں استعمال ہونے والی ماحول دشمن گرین ہاؤس گیسز کے خاتمے کے لیے قانونی معاہدے پر متفق ہو گئے تھے۔