کووِڈ 19 کے ردِ عمل کی افادیت سے متعلق پروگرام پر عملدرآمد میں تاخیر

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

ورلڈ بینک نے اپریل کے مہینے میں منصوبے کے لیے 20 کروڑ ڈالرمنظور کیے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ورلڈ بینک نے اپریل کے مہینے میں منصوبے کے لیے 20 کروڑ ڈالرمنظور کیے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں عالمی وبا کے ردِ عمل کی افادیت‘ سے متعلق پروگرام پر عملدآمد زیر التوا پی سی ون کے باعث تاخیر کا شکار ہوگیا۔

واضح رہے کہ اس منصوبے کا مقصد ملک میں کووِڈ 19 کے خلاف رد عمل کی تیاری اور صحت عامہ کی تیاریوں کے لیے قومی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 21 نومبر کو جاری کی جانے والی عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اقتصادی امور ڈویژن کی جاری کردہ ہدایات کے بعد منصوبے میں صحت کے لیے وفاقی اور صوبائی پی سی- ون تیار تھے تاہم اس کی منظوری میں کافی تاخیر کی وجہ سے عملدرآمد رک گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ منصوبے کے تحت عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں میں سے ایک کی ترمیم کے لیے تنظیم نو کی منصوبہ بندی کی گئی، عالمی بینک نے اپریل میں منصوبے کے لیے 20 کروڑ ڈالر منظور کیے تھے، جس کا مقصد کووڈ-19 سے پیدا ہونے والے خطرے کے روک تھام، اسے معلوم کرنا اور اس پر ردعمل ظاہر کرنا اور صحت عامہ کی تیاریوں کے لیے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے سونامی سے پاکستان کا نظام صحت کمزور پڑنے لگا

20 کروڑ ڈالر کا پیکج ملک کے قومی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط اور سماجی و اقتصادی رکاوٹوں کو کم کرکے کووڈ 19 کے ردعمل کے لیے مؤثر اور بروقت کارروائی میں پاکستان کو مدد دے گا۔

اس امداد سے فوری طور پر ضروری طبی آلات اور فراہمی کے لیے موجودہ 8 منصوبوں سے اضافی 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر حاصل ہوں گے۔

منصوبہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے تعاون سے قرنطینہ سہولیات قائم کرنے اور وینٹی لیٹرز اور ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کے لیے ذاتی تحفظ کا سامان فراہم کرنے میں مدد دے گا۔


یہ خبر 24 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔