وزیراعظم نے خفیہ ایجنسیوں کیلئے رابطہ کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے این آئی سی سی کے قیام کی منظوری دی—فائل فوٹو: اے پی پی
وزیراعظم عمران خان نے این آئی سی سی کے قیام کی منظوری دی—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینینش کمیٹی (این آئی سی سی) کے قیام کی منظوری دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس نئی کمیٹی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کریں گے جو اس کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے اس معاملے پر کم از کم 2 مرتبہ تبادلہ خیال کیا گیا تھا جس کے بعد یہ تجویز منظوری کے لیے وزیراعظم عمران خان کے پاس گئی تھی، مزید یہ کہ یہ توقع ہے کہ رابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتے میں ہوسکتا ہے۔

ادھر ذرائع نے اس کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگرچہ کوآرڈینشن فورم کے قیام سے متعلق تبادلہ خیال جاری ہے، اس کے ٹرمز آف ریفرنسز اور طریقہ کار کا فیصلہ اس کے باقاعدہ طور پر شکل اختیار کرنے کے بعد دیا جائے گا‘۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ملاقات

این آئی سی سی ملک میں 2 درجن سے زائد انٹیلی جنس تنظیموں کو مربوط کرنے کے طریقہ کار پر کام کرے گی جبکہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی بھی اس نئے ڈھانچے کا حصہ ہوگی۔

یہ قدم انٹیلیجنس اپریٹس کی طویل منتظر اصلاحات کا حصہ ہے جس کا مقصد متعلقہ ایجنسیوں کے کردار کو واضح کرنا، ان کے تعاون اور صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ملک نے جو سبق سیکھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس پوری کوشش میں مؤثر انٹیلی جنسی تعاون سب سے کمزور لنک تھا، اس کے نتیجے میں اہم وقت ضائع ہوا اور کچھ معاملات میں ایجنسیز اپنے پاس دستیاب معلومات کو اکھٹا نہیں کرسکیں، مزید یہ کہ یہ اجتماعی حکمت عملی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔

ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے سامنے آنے والے ورژن میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ کمیشن نے سول-ملٹری انٹیلی جنس تعاون کے طریقہ کار کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے امریکی محکمہ داخلہ سیکیورٹی کی طرز پر ایک ایجنسی کے قیام کی تجویز دی تھی تاکہ ملک میں تمام مرکزی خفیہ ایجنسیز ہم آہنگی سے کام کریں۔

یہ ایبٹ آباد کمیشن 2011 میں ابیٹ آباد میں امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن کے قتل سے متعلق صورتحال کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

اگرچہ اس کی رپورٹ کی باضابطہ طور پر توثیق نہیں کی گئی تاہم اس نے سول اور ملٹری کے اہم افراد کی گواہی کی بنیاد پر اپنی تفیتش کے دوران شناخت کردہ امور کو حل کرنے کے لیے مبینہ طور پر 32 وسیع تجاویز دی تھیں جن میں سے انٹیلی جنس کوآرڈینینش ایک تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 'فوج کو آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرنے کا کہنا، اس سے بڑی غداری کیا ہوگی'

ماضی میں اس تعاون کو قائم کرنے کے لیے مختلف کوششیں کی گئیں لیکن نئی باڈی کی قیادت پر اختلافات کی وجہ سے معمولی پیش رفت ہوسکتی تھی تاہم اب یہ معاملہ حل ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ 26 جولائی 2008 کو اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی حکومت نے وزارت داخلہ کے ’انتظامی، مالی اور آپریشنل کنٹرول‘ کے تحت آئی ایس آئی اور آئی بی کی تعیناتی کو بھی نوٹیفائی کیا تھا تاہم 24 گھنٹے کے اندر ہی اس فیصلے کو واپس لینا پڑ گیا تھا کیونکہ ان اداروں میں سے ایک کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران بھی کچھ اسی طرح کی کوششیں اس وقت کی گئی تھیں جب چوہدری نثار علی خان وزیر داخلہ کے عہدے پر موجود تھے۔


یہ خبر 24 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔