مالی سال 2020: ملک میں موبائل فون کی درآمد پر 54 ارب روپے کی ڈیوٹی وصول

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2020

ای میل

موبائل فون درآمدات پر ڈیوٹی وصولی میں اضافہ ہوا—فائل فوٹو: رائٹرز
موبائل فون درآمدات پر ڈیوٹی وصولی میں اضافہ ہوا—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: پاکستان کسٹم نے گزشتہ سال ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے ذریعے موبائل ڈیوائسز کی درآمد پر 54 ارب روپے وصول کیے جو اس سے پہلے سال کے مقابلے میں 145 فیصد زیادہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ موبائل فون کی درآمد سے ریونیو میں اضافے کی وجہ یہ ہے اب کوئی بھی بغیر ڈیوٹی ادا/اسمگل فون پاکستان میں ٹیکسز کی ادائیگی اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے رجسٹرڈ کیے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

ادھر ایک کسٹم عہدیدار کے مطابق ملک میں اسمگل شدہ ڈیوائسز کے استعمال کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کسٹمز نے پی ٹی اے کے اشتراک سے ڈی آئی آر بی ایس متعارف کروایا تھا، اس کامیاب مداخلت نے ملک میں بڑی سرمایہ کاری کو اپنی جانب کھینچا۔

مزید پڑھیں: مالی سال 2020 میں بیرون ممالک سے آئے موبائل فون پر 5 ارب 80 کروڑ روپے ٹیکس وصول

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 17 کمپنیز موبائل فونز مینوفکچرنگ کر رہی ہیں جبکہ ٹی سی ایل کا بھی ایئرلنک کے ساتھ پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے، وہیں ایک اور کمپنی الکاٹیل بھی اسی پر غور کر رہی ہے۔

اسی دوران چین جس سے جغرافیائی قربت ہے اور وہ ہینڈسیٹس مینوفیکچرنگ کے لیے عالمی مرکز ہے اس وقت بڑھتی مزدوروں کی لاگت سمیت امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے باعث ملک سے باہر سرمایہ کاری کے لیے دیکھ رہا ہے جو پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا مواقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال اور اسمگلرز کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز کے ذریعے عملدرآمد سے اسمگل شدہ اشیا کی دستیابی کا مسئلہ بڑے پیمانے پر حل ہوگیا ہے اور اس نے مقامی صنعت کے لیے جگہ فراہم کی ہے۔

یکم جولائی 2019 سے حکومت نے بیگیج رولز کے تحت بیرون ملک سے ڈیوٹی فری موبائل ہینڈسیٹ کی سہولت بھی واپس لے لی تھی اور ایف بی آر کے مطابق یہ فیصلہ اس اسکیم کے غلط استعمال کی متعدد شکایات کو دیکھتے ہوئے لیا گیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال 2020 کے دوران بیگیج کے تحت مسافر 13 لاکھ 89 ہزار 707 موبائل ہینڈسیٹس لائے اور انہیں ڈی آئی آر بی ایس سے رجسٹرڈ کروایا، جس کے نتیجے میں پاکستان کسٹمز نے مسافروں سے بیگیج کے تحت موبائل فونز کی درآمد پر گزشتہ سال 5 ارب 80 کروڑ روپے سے زیادہ اکٹھے کیے۔

دوسری جانب کمرشلی طور پر موبائل فونز کی درآمد کے لیے بھی واضح پالیسی ہے اور مالی سال 2020 کے دوران کمرشل درآمدات کے تحت 209 ارب 31 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کے ایک کروڑ 98 لاکھ ہینڈسیٹس درآمد کیے گئے جس پر ایف بی آر نے 39 ارب 41 کروڑ 40 لاکھ روپے ریونیو وصول کیا۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے 6 سلیب متعارف

مئی میں حکومت نے موبائل فون مینوفکچرنگ پالیسی کی منظوری دی جو مقامی ہینڈسیٹ انڈسٹری کو پروان چڑھانے میں مدد گار ثابت ہوئی ہے جو بین الاقوامی سطح پر مسابقت پذیر ہوسکتی ہے۔

وہی مارکیٹ کے سائز میں اضافے کے ساتھ ساتھ 4 جی کی طرف منتقلی کے باعث مقامی طلب کافی ہے۔

علاوہ ازیں اسی سے تعلق رکھنے والی دیگر صنعتیں جیسے پیکجنگ، پلاسٹکس اور آئی ٹی سوفٹ ویئر وغیرہ پہلے ہی مقامی مارکیٹ میں ایک مضبوط حیثیت رکھتی ہیں۔