پاکستان اسٹیل ملز کے برطرف ملازمین کا نیشنل ہائی وے پر احتجاج

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2020

ای میل

مظاہرین نے حکومتی اقدام کو  ’معاشی قتل‘ قرار دیا — فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
مظاہرین نے حکومتی اقدام کو ’معاشی قتل‘ قرار دیا — فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

پاکستان اسٹیل ملز کے برخاست کیے گئے سیکڑوں ملازمین نے نیشنل ہائی وے احتجاجاً بلاک کردی جبکہ مبینہ طور پر ایک کارکن صدمے سے ہلاک ہوگیا۔

ملازمین نے اسٹیل ٹاؤن چورنگی بلاک کردی اور اس دوران پییلز پارٹی اور تحریک انصاف کے مقامی ورکرز بھی احتجاج میں شریک ہوگئے۔

مزید پڑھیں: اسٹیل ملز ملازمین کے بجائے عمران خان کو برطرف ہونا چاہیے، بلاول بھٹو زرداری

مظاہرین نے حکومتی اقدام کو ’معاشی قتل‘ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ملازمین کی بحالی کی جائے۔

احتجاجی شرکا نے کہا کہ اگر ملازمین کو بحال نہیں کیا گیا تو پیر کے روز سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

منتظمین کے مطابق انہوں نے شام کے وقت کئی گھنٹوں پر مشتمل دھرنا ختم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کے روز ملازمین کے حق میں احتجاج سے متعلق حکمت عملی تیار کریں گے۔

اس موقع پر مظاہرین نے میڈیا کو وہ خطوط بھی دکھائے جن میں انہیں برطرف کرنے کے احکامات درج تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک ملازم حبیب اللہ صدمے سے فوت ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیل ملز کے مسئلے پر وہ لوگ سیاست کررہے ہیں جنہوں نے اسے ڈبویا، حماد اظہر

انہوں نے کہا کہ برخاست کیے جانے کا نوٹس ملنے پر حبیب اللہ کو دل کا دورہ پڑا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں ملازمین کو کسی بھی واجبات کی ادائیگی کے بغیر برخاست کردیا گیا ہے۔

مرکزی شاہراہ بلاک ہونے پر پولیس اور رینجرز کی نفری موقع پر پہنچی اور مظاہرین سے شاہراہ خالی کرنے کو کہا، لیکن احتجاجی شرکا نے منشتر ہونے سے انکار کردیا۔

اس دوران ٹریفک مرکزی شاہراہ پر معطل رہی، بعد ازاں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اسٹیل ملز نے ڈی سی ایز ،منیجرز اور صحت عامہ سمیت مختلف شعبوں سے 4 ہزار 544 ملازمین کو برطرف کردیا تھا۔

پاکستان اسٹیل ملز کی ملازمت سے برطرفی کی زد میں آنے والے شعبوں میں ‘اساتذہ، لیکچرارز، اسکولوں اور کالجوں کا غیر تدریسی عملہ، ڈرائیورز، فائرمین، آپریٹرز، صحت عامہ اور سیکورٹی اسٹاف، چوکیدار، مالی، پیرا میڈیکل اسٹاف، باورچی، آفس اسٹاف، فنانس ڈائریکٹوریٹ کا عملہ، اے اینڈ پی ڈائریکٹوریٹ اور اے اینڈ پی ڈپارٹمنٹ شامل ہے’۔

مزید پڑھیں: کراچی: پاکستان اسٹیل ملز سے 4 ہزار 544 ملازمین برطرف

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تعداد میں کمی کا عمل شروع کرنے کے لیے 19 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی تھی۔

اس سے قبل جون میں وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کو برطرف کرنے کی منظوری دے دی تھی لیکن اس معاملے پر شدید احتجاج کیا گیا تھا۔