فوج کا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، عمران خان

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2020

ای میل

وزیر اعظم نے کہا کہ جہانگیر ترین کے خلاف شوگر اسکینڈل میں تاحال تحقیقات چل رہی ہیں---فوٹو: اسکرین شاٹ
وزیر اعظم نے کہا کہ جہانگیر ترین کے خلاف شوگر اسکینڈل میں تاحال تحقیقات چل رہی ہیں---فوٹو: اسکرین شاٹ

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ داخلہ اور خارجہ امور سے متعلق تمام پالیسی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہے اور فوج کا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

نجی چینل 'ایکسپریس نیوز' کے پروگرام ’ٹو دی پوائنٹ‘ میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم نے تمام ریاستی اداروں بشمول نیب کو آزاد رکھا ہے اور ان پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آرمی نے مجھ پر دباو ڈالا تو میں اس کی مخالفت کروں گا لیکن آرمی نے کبھی مجھے کسی کام سے نہیں روکا جو میں کرنا چاہتا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان مسلم امہ کے سال کے بہترین شخص قرار

وزیراعظم نے کہا کہ میری تمام سرگرمیوں سے متعلق آئی ایس آئی اور آئی بی کو معلوم ہوتا ہے اور میں بغیر کسی دباؤ کے کام کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب نیب اپوزیشن کے کسی رہنما کے خلاف کوئی انکوائری کرتی ہے تو وہ چیختے ہیں کہ سیاسی انتقام لیا جارہا ہے لیکن یہ ہی لوگ اس وقت خاموش رہتے ہیں جب نیب حکومت میں شامل کسی فرد کے خلاف انکوائری کا حکم دے۔

'نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں سلیکٹڈ تھے'

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خلاف جتنے کیسز ہیں وہ ہماری حکومت نے دائر نہیں کیے بلکہ تمام کیسز سابق حکومتوں کے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف نے اپنے اپنے دور اقتدار میں ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے۔

عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اپنی حکومت میں نواز شریف کو دوبار جیل میں ڈالا تھا، ان کی کرپشن پر تو ڈاکومنٹری بنی اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا کراچی کیلئے 11 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں سلیکٹڈ تھے۔

'بلاول کو بیٹا اور مریم کو بیٹی ہونے پر پارٹی عہدے ملے'

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کے بارے میں کہا کہ مریم نواز کو نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے پارٹی میں عہدہ ملا جبکہ ان کی اپنی کوئی سیاسی جدوجہد نہیں ہے اور اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی پرچی پر ہیں۔

پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر ترین سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے سابق جنرل سیکریٹری پارٹی میں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی عہدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے خلاف شوگر اسکینڈل میں تاحال تحقیقات چل رہی ہیں۔

'عاصم سلیم باجوہ پر اعتراض ہے تو نیب سے رجوع کریں'

انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی وضاحت کردی تھی لیکن اگر کسی کو ان پر اعتراض ہے تو وہ نیب سے رجوع کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا وزیر اعظم عمران خان مستعفی ہونے والے ہیں؟

وزیر اعظم نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کو تجربے کی بنیاد پر پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کا چیئرمین لگایا گیا۔

'عثمان بزدار بہترین وزیر اعلیٰ ثابت ہوں گے'

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی کارکردگی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار، جنوبی پنجاب کے مسائل سے باخوبی واقف ہیں اور 5 سال پورے ہونے پر وہ پنجاب کے سب سے بہترین وزیر اعلیٰ ثابت ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں عثمان بزدار کے مقابلے میں ترقیاتی کام کم ہوئے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نوکریوں اور گھروں کا وعدہ 5 سال کی مدت میں پورا ہوگا بلکہ ہمارے 5 سال میں ایک کروڑ سے زیادہ نوکریاں ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: 'عمران خان کی تقریر سن کر خوشی ہوئی کہ اب اصلی وزیراعظم آئے گا'

رہنما پی ٹی آئی نعیم بخاری کو پی ٹی وی کی بطور چیئرمین تعیناتی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نعیم بخاری جتنا پی ٹی وی کو سمجھتے ہیں شاید ہی کوئی سمجھتا ہو۔

'فردوس عاشق اعوان، فیاض الحسن چوہان کی ضرورت ہے'

وزیر اعظم نے بتایا کہ ہمیں فردوس عاشق اعوان اور فیاض الحسن چوہان دونوں کی ضرورت ہے، فیاض الحسن تگڑی وزارت چاہتے تھے جو انہیں مل گئی ہے۔

وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات میں پاکستانی افرادی قوت کی آمد پر پابندی سے متعلق کہا کہ ویزوں کے معاملے پر ابوظہبی سے بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں جو بھی پیش رفت ہوگی وہ عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

'نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے پر کوئی دباؤ نہیں تھا'

عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے قائد کے بارے میں کہا کہ نواز شریف کی طبی رپورٹس پڑھی تو یقین نہیں آیا کہ کسی شخص کو اتنی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی پر گارنٹی دی تھی۔

مزید پڑھیں: 'عمران خان کنٹینر سے اتریں اور وزیراعظم بنیں'

وزیر اعظم عمران خان نے اس تاثر کی نفی کی کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے پر ان پر دباؤ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر کسی نے دباؤ ڈالا اور نہ ہی کوئی ڈال سکتا ہے۔

سعودی عرب سے تعلقات کے بارے میں عمران خان نے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بدستور مستحکم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے کوئی ایشو نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔

’اگر کورونا وبا نہ ہوتی تو ٹرمپ جیت جاتے‘

ایک سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا کی تمام تر تنقید کے باوجود اگلی مدت کے لیے صدارتی انتخاب جیت جاتے اگر کورونا وبا نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں میڈیا کا نمایاں کردار ہوتا ہے لیکن وہ ریاست کے سربراہ کے لیے خطرہ نہیں تھا۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے میڈیا کی تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن میڈیا صرف ایک عارضی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔