اتنا تو آمریت میں نہیں ہوا جو یہ حکومت کررہی ہے، یوسف رضا گیلانی

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ملتان میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ملتان میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے ملتان میں کامیابی کے ساتھ جلسہ کیا اور جو کچھ اس حکومت کے دور میں ہو رہا ہے اتنا تو ڈکٹیٹر شپ کے وقت میں بھی نہیں ہوا۔

ملتان میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مولانا فضل الرحمٰن نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکن فتحیاب ہوئے، عوام کامیاب ہو گئے اور ہم نے جب کہا تھا کہ جلسہ ہو کر رہے گا تو اللہ کی مدد سے جلسہ ہو کر رہا، اس لحاظ سے پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

مزید پڑھیں: 'پی ڈی ایم کی تحریک اقتدار کی جنگ نہیں ہے'

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادوں نے بھی بڑی قربانی دیتے ہوئے محاذ پر جا کر خدمات انجام دیں، اس کی پاداش میں وہ گرفتار بھی ہوئے، پولیس گردی کا نشانہ بھی بنے، ان پر تشدد بھی ہوا، جیل بھی گئے لیکن اللہ نے ان کو عزت و وقار کے ساتھ جیل سے رہائی دی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا یہ نظام آگے بڑھتا رہے گا اور اب ہماری نظریں 13 دسمبر کے لاہور کے جلسے پر ہوں گی، 8 دسمبر کو اسلام آباد میں پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہو گا جس میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہان شریک ہوں گے اور آئندہ کی حکمت عملی طے ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کیا کہ حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، اس وقت پاکستان میں اگر تمام معاملات میں کوئی غیر متعلقہ ہے تو وہ عمران خان اور اس کی صوبائی حکومتیں ہیں، عوام کے معاملات اور حکومتی نظام سے ہی وہ تقریباً لاتعلق ہو گئے ہیں اور یہ پی ڈی ایم کی تحریک کا نتیجہ ہے کہ حکومت ایک غیر مؤثر چیز بن کر رہ گئی ہے۔

اس موقع پر سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملتان جلسے سے قبل پی ڈی ایم کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور ان سے حلف نامے پر دستخط لیے گئے جس پر لکھا تھا کہ اگر کوئی جلسے پر جائے گا، تو حکومت پنجاب کو 10 لاکھ تاوان دے گا، یہ ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے پی ڈی ایم جلسوں کیلئے مزید اجازت نامے مسترد کردیے

انہوں نے کہا کہ میں پی ڈی ایم کے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ان نامساعد حالات میں جلسہ کیا اور اسے کامیاب کرایا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جلسے سے قبل تقریباً ڈیڑھ ہزار کارکن جلسہ گاہ میں قلعہ کہنہ قاسم باغ میں پہنچ گئے تھے جہاں نہ پانی تھا، نہ بجلی، نہ انتظامات تھے لیکن ہم نے بجلی کے بغیر جلسہ کیا اور ان تمام پکڑ دھکڑ کے باوجود جب سب لوگ یہاں آئے تو کچھ وزرا کے بیانات آنا شروع ہو گئے ہیں کہ یہ غلط فیصلہ ہوا حالانکہ یہ سب کچھ تو ایک ہفتے سے جاری تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے سے پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے، ابھی ہمارے لوگ جیلوں میں ہیں، 14سال کے بچوں کو بھی جیل میں ڈالا گیا ہے، اتنا تو ڈکٹیٹر شپ کے وقت میں نہیں ہوا جو یہ اب کر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے حکومت کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے اسے مات اور شکست دے دی ہے، آپ نے دیکھا کہ قلعہ قاسم باغ کے میدان میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک جدوجہد کا تسلسل ہے، ہم اپنے شیڈول کے مطابق بڑی کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں، رکاوٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں لیکن ہم سب چیز کی پرواہ کیے بغیر ہم قوم اور عام آدمی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا ’پی ڈی ایم مہم کے مقابلے‘ میں جلسوں کا منصوبہ

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور آصف علی زرداری بھی علیل ہیں، یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ لیڈرشپ اپنے بچوں کو تو نہیں نکالتے لیکن دوسروں کے بچوں کو ڈھال بنا لیتے ہیں لیکن آپ نے دیکھا کہ میرے بچے بھی موجود تھے، آصفہ بھٹو زرداری پہلی مرتبہ باہر آ کر ایجنڈے کے مطابق اس جلسے میں شامل ہوئیں۔

ایک سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سب کو نظر آ رہا ہے کہ یہاں دوہرا معیار ہے کہ جب پی ڈی ایم جلسہ کررہی تھی پشاور میں تو اسی وقت سوات میں جلسہ ہو رہا تھا، ایک اجازت کے ساتھ اور دوسرا اجازت کے بغیر اور اسی طریقے سے جب ہم یہاں جلسہ کررہے ہیں تو ایک لوئر دیر میں بھی جلسہ عام ہو رہا تھا اور ایک گرونانک میں بھی جلسہ ہو رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس وقت یہاں علی موسیٰ گیلانی کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت یہاں کے چیئرمین ایم ڈی اے ایک ریلی نکال رہے تھے، تو یہ دوہرے معیار لوگ سمجھ چکے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ کورونا صرف پی ڈی ایم کے جلسوں میں ہے، باقی جگہ نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے اٹھتی ہوئی معیشت میں گراوٹ کی ذمے داری عائد کیے جانے کے الزام کے حوالے سے سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جو معیشت اب تک گرائی ہے اس کا ذمے دار کون ہے، ہمارا جی ڈی پی ساڑھے پانچ فیصد تھا اور اس کے لیے ہم نے اس کا ہدف ساڑھے 6 فیصد رکھا تھا، وہ ان کی حکومت آتے ہیں اگلے سال میں 1.8 پر آگیا اور دوسرے سال میں 0.4 پر چلا گیا، پاکستان کی تاریخ میں جی ڈی پی اس سطح پر نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'پی ڈی ایم کی تحریک اور بھی زیادہ مضبوط ہو گی'

انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسیاں جب حکومت کی سطح پر بنتی ہیں تو اس کے اثرات عام آدمی تک پہنچنے میں کئی سال لگتے ہیں، یہاں تو ادھر حکومت بنی اور دوسری جانب عوام پر ان کی پالیسیوں کے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے، اس مہنگائی کا آپ کیا کریں گے۔

پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ اس وقت ہم حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم نے تمام امکانات مسترد کر دیے ہیں، آئندہ کا دارومدار پی ڈی ایم کے فیصلوں پر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ مسلم امہ کا فرض ہے کہ وہ اسرائیل کے بجائے فلسطینیوں کو تسلیم کرانے کی بات کرے، ہم فلسطینیوں کو بھول بیٹھے ہیں اور اسرائیل کو تسلیم کرانے کی باتیں کررہے ہیں، یہ کیا ترجیحات ہیں ہماری اور امت مسلمہ اتنی مرعوب کیوں کہ ہے کہ ایک طرف ہم مودی کو کشمیر دے رہے ہیں اور دوسری طرف ہم یہودیوں کو فلسطین دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: عوام نے فیصلہ دے دیا، سلیکٹڈ کو اب جانا ہوگا، آصفہ بھٹو زرداری

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم فلسطین کی آزادی کی بات کریں، قبلہ اول بیت المقدس جس کا دارالحکومت ہو، آج اقوام متحدہ کے قانون کے خلاف وہاں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کر رہا ہے جو جبر اور زبردستی ہے لہٰذا سب سے پہلے بات فلسطین کی آزادی، خود مختاری اور دارالحکومت کی ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آصف بھٹو ملتان جلسے میں بلاول بھٹو کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے شریک ہوئیں اور بلاول بھٹو لاہور کے جلسے میں طبیعت ٹھیک ہونے کے بعد شریک ہوں گے۔