وزیراعظم نے پی ڈی ایم جلسوں کیلئے مزید اجازت نامے مسترد کردیے

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2020

ای میل

وزیراعظم نے ترجمانوں سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی—فائل فوٹو: نیویارک ٹائمز
وزیراعظم نے ترجمانوں سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی—فائل فوٹو: نیویارک ٹائمز

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھنے کے تناظر میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو اپنے شیڈول جلسے ملتوی کرنے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو ملتان اور دیگر شہروں میں جلسے منعقد کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں اپنے ترجمانوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کورونا وائرس خطرناک طریقے سے پھیل رہا ہے، لہٰذا اپوزیشن کو پی ڈی ایم کے جلسے ملتوی کرنے چاہئیں‘۔

اجلاس میں موجود ایک فرد نے بتایا کہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’حکومت اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر سختی سے عمل درآمد کروائے گی اور اپوزیشن کو جلسے منعقد کرنے نہیں دے گی کیونکہ صحت کے اصول بڑے اجتماعات کی اجازت نہیں دیتے‘۔

اس موقع پر کچھ ترجمانوں نے تجویز دی کہ جو جلسے میں شریک ہوں انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جائے۔

ویڈیو دیکھیں: 'پی ڈی ایم کی تحریک اقتدار کی جنگ نہیں ہے'

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ اپوزیشن چاہے کتنے جلسے کرلے لیکن وہ اپوزیشن رہنماؤں کو قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کی طرح کی رعایت نہیں دیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومںٹ اب تک گوجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جلسے کرچکی ہے جبکہ ان کے 30 نومبر کو ملتان اور 13 دسمبر کو لاہور میں مزید 2 جلسے شیڈول ہیں۔

دوران اجلاس اسرائل اور کچھ مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کی حالیہ بحالی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظإ کا کہنا تھا کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہیں ملتے پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق قائد اعظم محمد علی جناح کی پالیسی پر عمل کرے گی۔

کارپوریٹ فارمنگ

وزیراعظم عمران خان نے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے مقامی پیداوار کو بڑھانے اور زرعی مصنوعات کی قیمیں کم رکھنے کی ہدایت کی۔

ملک کے بڑے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ ایک اجلاس میں وزیراعظم نے ان سے زرعی شعبے کو جدید کرنے اور بڑے پیمانے پر کارپوریٹ فارمنگ شروع کرنے کے لیے مختلف فصلوں کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے تجاویز طلب کیں۔

انہوں نے کہا کہ خوشحالی کا تعلق کاروباری برادری کی ترقی سے ہے، مزید یہ کہ صنعتوں کو سہولت اور تجارتی سرگرمیوں کا فروغ حکومت کی ذمہ داری تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صنعتکاروں کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا گیا جس کے اچھے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مصنوعات کی برآمد میں صنعتکاروں کو درپیش مسائل کو حل کریں۔ مذکورہ وفد میں اعظم فاروق (چراٹ سیمنٹ)، بشیر علی محمد (گل احمد)، محمد علی ٹبہ (لکی سیمنٹ)، ثاقب شیرازی (ہونڈا اٹلس)، فواد مختار (فاطمہ فرٹیلائزر)، عارف حبیب (عارف حبیب گروپ) اور حسین داؤد (اینگرو کارپوریشن) شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا ’پی ڈی ایم مہم کے مقابلے‘ میں جلسوں کا منصوبہ

اس موقع پر وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، وزیراعظم کے مشیران عبدالرزاق داؤد، عبدالحفیظ شیخ اور ڈاکٹر عشرت حسین سمیت سینئر حکام بھی موجو تھے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود نے ملاقات کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر اگلے مذاکرات سہ فریقی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرداد کے تحت کشمیری عوام، پاکستان اور بھارت تنازع کے 3 فریق ہیں جبکہ اس مسئلے کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کو لینا تھا۔