اسٹیل بار کی قیمتوں میں 7 ہزار روپے تک کا اضافہ

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2021

ای میل

اسٹیل بار کی قیمت ایک لاکھ 39 ہزار 500 سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن ہوگئی جس کی وجہ سے تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ - فائل فوٹو:ڈان
اسٹیل بار کی قیمت ایک لاکھ 39 ہزار 500 سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن ہوگئی جس کی وجہ سے تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ - فائل فوٹو:ڈان

کراچی: اسٹیل بار کی قیمت 7000 روپے اضافے کے بعد ایک لاکھ 39 ہزار 500 سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن ہوگئی جس کی وجہ سے تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2020 کے آخری ہفتے کے بعد دوسری مرتبہ اسٹیل بار کی قیمتوں میں اتنا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ عالمی سطح پر لوہے اور اسٹیل کے اسکریپ کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔

مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو عالمی مارکیٹ میں انتہائی قلت اور خام مال کی قیمت میں اضافہ بتاتے ہوئے اسٹیل بار کے متعدد مینوفیکچرز نے بلڈرز کو نئے بڑھے ہوئے نرخوں کا حوالہ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹیل کے بارز، سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ

امریلی اسٹیلز لمیٹڈ نے اپنے ڈی فارمڈ اور ایکسٹریم بارز کی بکنگ کے نرخ ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن بتائی۔

آغا اسٹیل انڈسٹریز نے اپنی 10 ملی میٹر اور 12-32 ملی میٹر بارز کی قیمتوں میں تبدیلی کرکے ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن کردی۔

نوینا اسٹیل ملز نے اپنے 10 ملی میٹر بارز کی قیمتیں بڑھا کر ایک لاکھ 40 ہزار 500 اور 12-32 ملی میٹر کے ڈی فارمڈ گریڈ-60 کے بارز کے لیے ایک لاکھ 39 ہزار 500 روپے کردیا۔

فیضان اسٹیل نے 12-32 ملی میٹر بارز کی قیمت ایک لاکھ 40 ہزار 500 روپے اور 10 ملی میٹر بارز کے لیے ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے تک بڑھا دی۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیل ملز کے ملازمین کی تعداد میں کمی کیلئے 19 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ منظور

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بلڈرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین حسن بخشی نے الزام لگایا کہ اسٹیل بار بنانے والے وزیر اعظم عمران خان کے کم لاگت والے مکانات کے نظریے کو برباد کرنے کے لیے مافیا کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریبار قیمتوں میں اضافے سے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام پر بھی اثر پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک بائی رائز منصوبے پر تعمیراتی لاگت میں نومبر 2020 سے لے کر اب تک اسٹیل بار کی قیمتوں میں 30 ہزار روپے فی ٹن اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 سے 9 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

ہائی رائز منصوبے کی کل تعمیراتی لاگت میں اسٹیل بارز کا 40 سے 45 فیصد حصہ ہوتا ہے۔

رہائشی منصوبوں میں تعمیراتی لاگت میں بھی 4 سے 6 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے کیونکہ اسٹیل بارز کا حصہ مجموعی اخراجات میں 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہوتا ہے۔

پاکستان کے اعدادوشمار بیورو (پی بی ایس) کے ڈیٹا کے مطابق مالی سال 2021 کے جولائی تا دسمبر کے دوران لوہے اور اسٹیل اسکریپ (اسٹیل بارز بنانے کے لیے خام مال) کی درآمد 26 لاکھ 80 ہزار ٹن رہی جبکہ اس میں 94 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 20 لاکھ 60 لاکھ ٹن درآمد کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: اسٹیل ملز کے ملازمین کی تعداد میں کمی کیلئے 19 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ منظور

اوسطا فی ٹن لاگت مالی سال 2020 میں 391 ڈالر فی ٹن کے مقابلے میں مالی سال 2021 میں اسی مدت کے دوران قیمت کم ہوکر 354 ڈالر فی ٹن ہوگئی جبکہ اسٹیل بارز بنانے والوں نے اسکریپ کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کا دعوٰی کیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان سرکاری محکموں اور نجی شعبے کے ساتھ رہائش، تعمیر و ترقی سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

دسمبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی اجلاس میں وزیر اعظم نے اسٹیل بارز کی بڑھتی قیمتوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسٹیل بار کی بڑھتی قیمتوں پر غور کرنے اور ایک قابل عمل حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

وزیر اعظم خان نے وزیر برائے صنعت حماد اظہر، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جاوید غنی، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی کو اسٹیل بارز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پیش کرنے کا کام سونپا تھا۔