تربت: طالبعلم حیات بلوچ کو قتل کرنے والے ایف سی اہلکار کو موت کی سزا

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2021

ای میل

حیات بلوچ کو گزشتہ برس اگست میں قتل کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
حیات بلوچ کو گزشتہ برس اگست میں قتل کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ: اگست 2020 میں جامعہ کراچی کے ایک طالبعلم حیات بلوچ کو قتل کرنے پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک سپاہی کو سزائے موت سنادی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تربت کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رفیق لانگوو نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد ملزم کی موجودگی میں فیصلہ سنایا، مذکورہ کیس میں ایڈووکیٹ جرین دشتی نے متوفی کے اہل خانہ کی نمائندگی کی۔

واضح رہے کہ حیات مرزا بلوچ کو گزشتہ برس 13 اگست کو ضلع کیچ کے شہر تربت کے علاقے ابسار میں والدین کے سامنے اس وقت قتل کردیا گیا تھا جب وہ ان کے ساتھ کجھور کے باغ میں کام کر رہا تھا۔

مزید پڑھیں: حیات بلوچ قتل کیس: والد نے شناختی پریڈ میں 'قاتل' کو پہچان لیا

کورونا وائرس کی وبا کے باعث یونیورسٹی بند ہونے پر تربت جانے والے متوفی حیات بلوچ کو 8 گولیاں لگی تھیں جس سے موقع پر ہی اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

مذکورہ کیس کے ریکارڈ کے مطابق تربت میں 3 ایف سی اہلکار اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب علاقے میں پیٹرولنگ کے دوران امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی) کا دھماکا ہوا تھا۔

بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا تھا اور اس دوران ایف سی کے سپاہی شادی اللہ نے حیات بلوچ کو پکڑ کر اس کے ہاتھ پیچھے باندھے اور بعدازاں اسے قتل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تربت میں طالبعلم کے قتل کے الزام میں ایف سی اہلکار گرفتار

واقعے کے بعد اس وقت کے انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (جنوبی) میجر جنرل سرفراز علی نے واقعے کا نوٹس لیا تھا اور معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ایف سی اہلکار کو قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔

پولیس نے ملزم کے خلاف متوفی کے بڑے بھائی مراد مرزا بلوچ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا تھا جبکہ سپاہی کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت میں اس کے خلاف چالان جمع کرایا تھا۔

مزید یہ کہ شناختی پریڈ کے دوران حیات بلوچ کے والدین نے ملزم کو پہچان لیا تھا جبکہ مجسٹریٹ کی جانب سے دفعہ 64 کے تحت ریکارڈ کیے گئے ملزم کے بیان میں اس نے بھی جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔


یہ خبر 21 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی