ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل: پاکستان میں کرپشن 4 درجے مزید بڑھ گئی

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2021

ای میل

ملک کا اسکور  100 میں سے گزشتہ برس کے 32 کے مقابلے کم ہو کر 31 ہوگیا—فائل فوٹو: مریم علی
ملک کا اسکور 100 میں سے گزشتہ برس کے 32 کے مقابلے کم ہو کر 31 ہوگیا—فائل فوٹو: مریم علی

اسلام آباد: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال 2020 میں پاکستان 180 ممالک میں سے 124ویں درجے پر آگیا جبکہ گزشتہ برس پاکستان سی پی آئی رینکنگ میں 120ویں نمبر پر تھا۔

اس کے ساتھ ملک کا اسکور بھی 100 میں سے گزشتہ برس کے 32 کے مقابلے میں کم ہو کر 31 ہوگیا، سال 2019 میں پاکستان کا درجہ 180 ممالک کی فہرست میں 120 تھا۔

دوسری جانب بھارت کے اسکور میں بھی ایک پوائنٹ کی کمی ہوئی اور یہ 41 سے کم ہو کر 40 ہوگیا جبکہ بھارت کے اس فہرست میں 80ویں درجے سے گر کر 86 نمبر پر پہنچ گیا۔

اس کے علاوہ پاکستان نے 2 ذرائع رول آف لا انڈیکس اور ورائٹی آف ڈیموکریسی سے متعلق شعبے میں بھی کم اسکور کیا جس کی وجہ پاکستان کے مجموعی اسکور میں سی پی آئی 2020 کے مقابلے ایک درجے کی کمی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:گزشتہ سال پاکستان میں کرپشن بڑھی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

عالمی انصاف پروگرام (ڈبلیو جے پی) رول آف لا اینڈ ورائیٹیز آف ڈیموکریسی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات سرکاری افسران، قانون سازوں، ایگزیکٹوز، عدلیہ، پولیس اور فوج کی کرپشن کے بارے میں تھے جس کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر نے وضاحت کی۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت نے ان چاروں شعبوں میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے گزشتہ 2 برسوں کے دوران 3 کرب 63 ارب روپے برآمد کرنے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے 3 کھرب روپے کی برآمدگی کے دعووں اور غیر معمولی کوششوں کے باوجود رینکنگ اور اسکور کم ہوا۔

مزید پڑھیں: کرپشن کے انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن معمولی بہتر

خطے کے دیگر ممالک میں بھارت، ایران اور نیپال کا اسکور ایک درجے جبکہ ملائیشیا کا 2 درجے کم ہوا البتہ افغانستان کا اسکور 3 درجے اور ترکی کا ایک درجہ بہتر ہوا۔

سی پی آئی 2020 میں انکشاف ہوا کہ مسلسل کرپشن صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو نقصان پہنچارہی ہے اور جمہوریت کی گراوٹ میں کردار ادا کررہی ہے۔

ان کے مقابلے میں فہرست میں اچھی کارکردگی دکھانے والے ممالک صحت عامہ میں زیادہ سرمایہ کاری کررہے اور عالمگیر صحت کی سہولیات دینے کے بہت اہل ہونے کے ساتھ وہاں جمہوری اصولوں اور اداروں یا قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کا امکان کم ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 180ملکوں اور خطوں کے سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن کا جائزہ لیا گیا جس میں سب سے زیادہ کرپٹ کو صفر اور شفاف ترین ملک کے لیے 100 کا ہندسہ رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی ساختہ ’انسدادِ کرپشن‘ مہم پاکستان کے لیے کیوں ضروری؟

فہرست میں نیوزی لینڈ اور ڈنمارک 88 پوائنٹس کے ساتھ سرِ فہرست ہیں جبکہ شام کے 14 پوائنٹس، صومالیہ کے 12 اور جنوبی سوڈان کے بھی 22 پوائنٹس ہیں۔

علاوہ ازیں مسلسل گراوٹ کے رجحان کے ساتھ امریکا نے 67 پوائنٹس کے ساتھ 2012 کے بعد اپنا سب سے کم اسکور حاصل کیا۔

اعلیٰ سطح پر مفادات اور عہدے سے بدسلوکی کے مبینہ تنازعات کے علاوہ سال 2020 میں 10 کھرب ڈالر کے کووِڈ 19 امدادی پیکیج کی کمزور نگرانی نے شدید خدشات کو جنم دیا اور حکومت کی جوابدہی کو فروغ دینے والے دیرینہ جمہوری اصولوں سے پسپائی ظاہر کی۔