اسرائیل نے روس کے ساتھ خفیہ معاہدے کے تحت شام کے لیے ویکسین خریدلی

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021

ای میل

ماسکو کی جانب سے کیے گئے معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے متعلق شرائط خفیہ ہیں۔ - فائل  فوٹو:رائٹرز
ماسکو کی جانب سے کیے گئے معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے متعلق شرائط خفیہ ہیں۔ - فائل فوٹو:رائٹرز

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے شامی حکومت کو کورونا وائرس کی ویکسین فراہم کرنے کے لیے روس کو 12 لاکھ ڈالر ادا کردیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماسکو کی جانب سے کیے گئے معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے متعلق شرائط خفیہ ہیں جس کے بارے میں دونوں ممالک کی عوام کو کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل شام کو ویکسین فراہم کررہا ہے جو اس کے دشمن ملک ایرانی افواج کی میزبانی کر رہا ہے جس کی وجہ سے اس پر تنقید کی جارہی ہے کیونکہ یہودی ریاست نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو مناسب مقدار میں ویکسین فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: مسلم اکثریتی ملک کوسووو کا اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اس معاہدے میں ایک بھی اسرائیلی ویکسین شامل نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر بات نہیں کی کہ آیا اسرائیل نے روسی ویکسینز کی ادائیگی کی ہے یا نہیں اور کہا کہ روس نے اس تبادلے کی تفصیلات کو راز رکھنے پر اصرار کیا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے معاہدے کی بہت ساری تفصیلات اب بھی خفیہ ہیں۔

لیبر پارٹی کی رہنما میراف مائیکل نے اسرائیل کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاہدے اور نیتن یاہو کے سینسرشپ کے سیاسی اور نامناسب استعمال پر تبادلہ خیال کریں۔

انہوں نے اسرائیلی ریڈیو پر کہا کہ 'کیوں اسرائیلی شہریوں کو ہمیشہ غیر ملکی میڈیا سے ایسی چیزوں کے بارے میں جاننے کو ملتا ہے جو ان کے وزیر اعظم ان سے چھپاتے ہیں؟'

یہ بھی پڑھیں: ترکی نے دو سال بعد اسرائیل کیلئے اپنا سفیر مقرر کردیا

اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ رواں ماہ کے آغاز میں پڑوسی ملک شام جانے والی ایک نوجوان خاتون کو گھر واپس لانے کے لیے روسی ثالثی میں معاہدے پر پہنچا ہے۔

اس کے بدلے میں اسرائیل نے بتایا تھا کہ اس نے دو شامی چرواہوں کو رہا کیا جو اسرائیلی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ روسی صدر ولادمیر پیوتن کے ساتھ ان کے گرم تعلقات نے اس معاہدے کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔

تاہم ان کے دفتر نے شام کے لیے ویکسین کی ادائیگی کے حوالے سے کسی معاہدے کا ذکر نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کی خلیجی ممالک سے معاہدوں کے بعد مغربی کنارے میں پہلی آبادکاری کی منظوری

اسرائیلی خبروں میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اسپٹنک فائیو ویکسین کی نامعلوم تعداد میں خوراک کی ادائیگی کی۔

روسی براہ راست سرمایہ کاری فنڈ، جس نے اس ویکسین کی تیاری میں مالی اعانت فراہم کی، نے نومبر میں کہا تھا کہ اس پر بین الاقوامی سطح پر فی خوراک 10 ڈالر سے بھی کم لاگت آئے گی۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اس معاہدے کے موجود ہونے کی تردید کی ہے۔