گرے لسٹ سے متعلق پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ایف اے ٹی ایف پلانری میں ہوگا

اپ ڈیٹ 22 فروری 2021

ای میل

پلانری میں پاکستان کا جائزہ 40 سفارشات پر نہیں بلکہ 27 نکاتی ایکشن پلان کی بنیاد پر لیا جائے گا—فائل فوٹو: ایف اے ٹی ایف ویب سائٹ
پلانری میں پاکستان کا جائزہ 40 سفارشات پر نہیں بلکہ 27 نکاتی ایکشن پلان کی بنیاد پر لیا جائے گا—فائل فوٹو: ایف اے ٹی ایف ویب سائٹ

اسلام آباد: حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان میرٹ پر گرے لسٹ سے نکلنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن آج سے شروع ہونے والے پلانری اجلاس کے ساتھ پاکستان شاید فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں موجود رہے۔

اہم عہدیداروں اور غیر ملکی سفرا سے پس پردہ ہونے والی بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ جیوری منقسم ہے، حکام ایک مثبت نتیجے کے لیے کافی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم کچھ سفرا کی تجویز یہ تھی کہ بہترین صورتحال میں بھی پاکستان جون تک اضافی نگرانی کی فہرست میں رہے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حتمی فیصلے کا اعلان ایف اے ٹی ایف کے صدر 25 فروری کو اختتام پذیر ہونے والے 4 روزہ ورچوئل پلانری میں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان، گرے لسٹ سے اخراج کیلئے پُرامید

پلانری سے قبل ایف اے ٹی ایف نے تمام ممالک کی مجموعی کارکردگی اپڈیٹ کی۔

اس اپڈیٹ کی بنیاد پر پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 2 سفارشات، انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نظام میں بہتر عملدرآمد ظاہر کررہا ہے۔

اپڈیٹ کے مطابق 4 چیزوں کے معاملات میں پاکستان کی پیش رفت عدم تعمیل، 25 معاملات پر خصوصی عملدرآمد اور 9 سفارشات پر بڑی حد تک عملدرآمد کی ہے۔

تاہم پلانری میں پاکستان کا جائزہ 40 سفارشات پر نہیں بلکہ 27 نکاتی ایکشن پلان کی بنیاد پر لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، دفتر خارجہ

سفارتکاروں نے کہا کہ اس مرتبہ انہیں اسلام آباد کی جانب سے ویسی جارحانہ سفارتی کوششیں نظر نہیں آئیں جیسی کے ماضی میں بالخصوص اکتوبر 2020 کے پلانری سے قبل کی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ پلانری اجلاس میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے، گرے لسٹ میں برقرار رکھنے یا گرے لسٹ سے نکالنے سمیت تمام آپشنز پر بات چیت ہوسکتی ہے۔

تاہم امکان ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ایف اے ٹی ایف کے 3 اراکین، چین، ترکی اور ملائیشیا ملک کی درجہ بندی کم کرنے کے لیے تمام تر دباؤ برداشت کرسکتے ہیں۔

یہ صرف دوستانہ باہمی تعلقات پر نہیں بلکہ کارکردگی پر بھی منحصر ہے، ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمارے نقطہ نظر سے ہم نے تمام ایکشن پوائنٹس مکمل کیے ہیں جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کو کیا کرنا ہوگا لیکن بعض اوقات کچھ بااثر ممالک کسی ایسے پوائنٹ پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں جسے کوئی جائز نہ سمجھتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور پاکستان کی معیشت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

یاد رہے کہ دہشت گردی کے لیے مالی معاونت روکنے اور انسداد منی لانڈرنگ رجیم میں خامیوں کے باعث پاکستان جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے۔

آخری مرتبہ کے جائزے میں بھی پاکستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور کالعدم افراد کو سزا دینے، منشیات اور جواہرات کی اسمگلنگ کو روکنے کے خلاف کارروائیوں کی کارکردگی میں خامیاں تھیں۔