پی ایس ایل 2021: پشاور زلمی کا ملتان سلطانز پر جوابی وار، 6 وکٹوں سے کامیاب

اپ ڈیٹ 24 فروری 2021

ای میل

کوہلر نے شان دار بیٹنگ کی — فوٹو: پی ایس ایل :ٹوئٹر
کوہلر نے شان دار بیٹنگ کی — فوٹو: پی ایس ایل :ٹوئٹر
جیمز وینس نے شان دار 84 رنز بنائے —فوٹو: پی ایس ایل ٹوئٹر
جیمز وینس نے شان دار 84 رنز بنائے —فوٹو: پی ایس ایل ٹوئٹر
جیمز وینس نے شان دار 84 رنز بنائے—فوٹو: پی ایس ایل ٹوئٹر
جیمز وینس نے شان دار 84 رنز بنائے—فوٹو: پی ایس ایل ٹوئٹر
دونوں ٹیموں نے دو، دو تبدیلیاں کیں —فوٹو: پشاور زلمی ٹوئٹر
دونوں ٹیموں نے دو، دو تبدیلیاں کیں —فوٹو: پشاور زلمی ٹوئٹر
سلطانز کے جیمز وینس نے شان دار بیٹنگ کی—فوٹو: پی ایس ایل ٹوئٹر
سلطانز کے جیمز وینس نے شان دار بیٹنگ کی—فوٹو: پی ایس ایل ٹوئٹر
کوہلر نے نصف سنچری بنائی—فوٹو: پی ایس ایل: ٹوئٹر
کوہلر نے نصف سنچری بنائی—فوٹو: پی ایس ایل: ٹوئٹر

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2021 کے اہم میچ میں پشاور زلمی نے بلے بازوں کے خراب کھیل کی بدولت ملتان سلطانز کو ایونٹ کا بڑا اسکور ترتیب دینے کے باوجود 6 وکٹوں سے باآسانی شکست دے دی۔

قبل ازیں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2021 کے چھٹے میچ میں ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کے خلاف جیمز وینس کی دلکش اننگز سمیت دیگر بلے بازوں کی شان دار کارکردگی کے باعث 4 وکٹوں پر رواں سیزن کا سب سے بڑا اسکور 193 رنز بنا لیا۔

نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے میچ میں پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

ملتان سلطانز نے بیٹنگ شروع کی تو پشاور زلمی کے محمد عمران کے پہلے اوور میں 6 رنز بنائے، جس کے بعد محمد عرفان باؤلنگ کے لیے آئے اور کرس لین کو حیدر علی کے ہاتھوں سلپ پر کیچ کروا دیا۔

محمد عرفان نے دوسرے اوور کی پہلی گیند پر کرس لین کی وکٹ حاصل کی۔

محمد رضوان اور جیمز وینس نے اسکور آگے بڑھایا اور ساتویں اوور کی تیسری گیند پر ٹیم کی نصف سنچری مکمل کی۔

ملتان سلطانز کے کپتان اور جیمز وینس نے شراکت میں 56 گیندوں پر 82 رنز بنائے اور رضوان وقفے کے بعد عمران جونیئر کی پہلی گیند پر امام الحق کو کیچ دے بیٹھے۔

جیمز وینس نے کپتان کے آؤٹ ہونے کے بعد صہیب مقصود کے ساتھ مل کر اننگز آگے بڑھائی اور 39 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جو پی ایس ایل میں ان کی مجموعی طور پر تیسری نصف سنچری ہے.

صہیب مقصود 36 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ جیمز وینس نے چوکوں اور چھکوں کی برسات جاری رکھی اور 56 گیندوں پر 84 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس میں 9 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے جبکہ ٹیم کا اسکور 3 وکٹوں پر 19ویں اوور میں 186 رنز تھا۔

ملتان سلطانز نے مقررہ اوورز میں 193 رنز بنائے جو پی ایس ایل کے رواں سیزن کا اب تک کا سب سے بڑا اسکور تھا۔

رلی روسو 14 اور خوشدل شاہ نے 6 رنز بنائے۔

پشاور زلمی کی جانب سے ثاقب محمود نے 2 وکٹیں لیں۔

مشکل ہدف کے تعاقب میں امام الحق اور کامران اکمل نے محتاط بیٹنگ شروع کی اور ابتدائی دو اوورز میں 12 رنز بنائے تاہم یہ سلسلہ کامران اکمل کی جارحانہ بیٹنگ نے توڑ دیا جنہوں نے شاہد آفریدی سمیت دیگر باؤلرز کے خلاف چوکے اور چھکے مارے۔

سلطانز کے لیگ اسپنر عثمان قادر نے بہترین گیند کی اور کامران اکمل کی اننگز کو 37 رنز تک محدود کردیا، اس مرتبہ عثمان قادر نے پاکستان کے مشہور امپائر علیم ڈار کے فیصلے کو غلط ثابت کیا۔

علیم ڈار کے فیصلے کے خلاف محمد رضوان نے اپیل کی اور تھرڈ امپائر نے کامران اکمل کو ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔

اپنا پہلا میچ کھیلنے والے نئے بلے باز ٹام کوہلر نے امام الحق کے ساتھ مل کر کامران اکمل کی رفتار کو جاری رکھا اور ٹیم کا اسکور 134 رنز تک پہنچایا، اس موقع پر امام الحق 48 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔

ملتان کے شاہنواز دھنی نے 15 رنز پر کھیلنے والے روتھرفورڈ کو آؤٹ کیا، جس کے بعد کوہلر نے اپنی نصف سنچری مکمل کی لیکن دھنی کی گیند کا نشانہ بنے۔

حیدر علی اور تجربہ کار شعیب ملک نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکور کو آگے بڑھایا اور 19ویں اوور میں ہی 197 رنز بنا کر ٹیم کو ایک اوور قبل ہی فتح دلا دی۔

نوجوان بلے باز نے 2 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 24 رنز بنا کر ٹیم کی جیت یقینی بنائی۔

کوہلر کیڈمور کو شان دار بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ دونوں ٹیمیں اپنے ابتدائی میچ میں ناکامی سے دو چار ہوئی تھیں۔

دونوں ٹیموں نے اہم میچ کے لیے 2،2 تبدیلیاں کیں، زلمی نے گزشتہ میچ میں نصف سنچری بنانے والے روی بوپارا کو بھی شامل نہیں کیا جبکہ سلطانز نے عثمان دار اور شاہنواز دھنی کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا۔

پشاور زلمی کو لاہور قلندرز نے 4 وکٹوں سے شکست دی تھی، جہاں باؤلنگ کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھائی گئی تھی جبکہ بیٹنگ روی بوپارا کی نصف سنچری کے باوجود بڑا مجموعی ترتیب دینے میں ناکام رہی تھی۔

دوسری جانب ملتان کی ٹیم نے کپتان محمد رضوان کی شان دار بیٹنگ کی مدد سے اسکور بورڈ پر 150 کا مجموعہ سجایا تھا لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ نے 7 وکٹوں کے نقصان پر اس ہدف کو حاصل کیا تھا۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں:

پشاور زلمی: وہاب ریاض (کپتان)، کامران اکمل، امام الحق، حیدرعلی، شعیب ملک، ٹام کوہلرکیڈمور، شرفین روتھر فورڈ، مجیب الرحمٰن، ثاقب محمود، محمد عمران، محمد عرفان

ملتان سلطانز: محمد رضوان (کپتان)، کرس لین، جیمز وینس، صہیب مقصود، رلی روسو، خوشدل شاہ، شاہد آفریدی، کارلوس بریتھویٹ، سہیل تنویر، عثمان دار، شاہنواز دھنی