بھارت میں کورونا وبا کے آغاز سے اب تک کے ریکارڈ ایک لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2021

ای میل

بھارت میں مجموعی کیسز ایک کروڑ 26 لاکھ تک پہنچ گئے ہیں — تصویر: رائٹرز
بھارت میں مجموعی کیسز ایک کروڑ 26 لاکھ تک پہنچ گئے ہیں — تصویر: رائٹرز

نئی دہلی: بھارت میں پیر کے روز کورونا وائرس کے ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے اور امریکا کے بعد دوسرا ملک بن گیا جہاں ایک روز میں ایک لاکھ سے زیادہ مثبت کیسز سامنے آئے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایسے میں سیاستدانوں کی جانب سے بڑی انتخابی ریلیاں نکالنے سے وائرس مزید پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

وبا سے سب سے زیادہ بھارت کی امیر ریاست مہاراشٹر متاثر ہوئی ہے جہاں ملک کا تجارتی دارالحکومت ممبئی اور متعدد صنعتیں موجود ہیں، یہاں ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:غریب ممالک کیلئے مختص ویکسین کا ایک تہائی بھارت میں ہی موجود ہونے کا انکشاف

فروری میں کئی ماہ بعد کم ترین کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اب یومیہ انفیکشن کی تعداد 12 گنا بڑھ گئی ہے، اس سے قبل کیسز کم ہونے پر حکام نے زیادہ تر پابندیاں ہٹا دی تھیں اور لوگوں نے ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کا خیال رکھنا چھوڑ دیا تھا۔

چنانچہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ایک لاکھ 3 ہزار 558 نئے کیسز کے ساتھ بھارت میں مجموعی کیسز ایک کروڑ 26 لاکھ تک پہنچ گئے ہیں، جو امریکا اور برازیل کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

علاوہ ازیں وبا کے باعث مزید 478 مریض لقمہ اجل بنے، جس سے اموات کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار 101 ہوگئی جبکہ گزشتہ ہفتے رپورٹ ہونے والے کورونا کیسز کی تعداد دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ وائرس کی مزید تبدیل شدہ اقسام نے کیسز میں دوبارہ اضافے میں اہم کردار ادا کیا، بھارت میں وائرس کی مختلف اقدام کے سیکڑوں کیسز سامنے آئے ہیں جن کی برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل میں نشاندہی ہوئی تھی۔

دوسری جانب بھارت دنیا میں سب سے زیادہ ویکسین تیار کرنے والا ملک بھی ہے اور اب تک اپنے 7 کروڑ 70 لاکھ شہریوں کو ویکسین لگا چکا ہے جو امریکا اور چین کے بعد تیسری بڑی تعداد ہے۔

مزید پڑھیں: کووڈ 19 کا شکار ہونے سے بچنا چاہتے ہیں؟ تو یہ عادت فوری اپنالیں

بھارت میں اس وقت صرف 45 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جارہی ہے جس میں ہیلتھ اور فرنٹ لائن ورکرز کی ویکسینیشن پہلے ہوئی۔

ایک جانب کیسز میں اضافہ جاری ہے دوسری جانب درجنوں ریاستوں میں سیاستدان اور وزرا انتخابی ریلیاں نکال رہے ہیں جن میں ہزاروں افراد بغیر ماسک اور احتیاطی تدابیر کے شرکت کررہے ہیں۔

کورونا کیسز میں اضافے کے بعد بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی آگئی ہے۔

برطانیہ میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا اعلان

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم نے بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انگلینڈ میں ہر فرد ہفتے میں 2 مرتبہ کورونا ٹیسٹ کرواسکتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کے اس پروگرام سے وائرس کی ترسیل کا سلسلہ ٹوٹے گا اور بغیر علامات والے کیسز شناخت ہوسکیں گے۔

جہاں زیادہ تر یورپی ممالک نئے لاک ڈاؤن لگا رہے ہیں وہیں برطانیہ میں بین الاقوامی سفر اور معاشی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

برطانیہ میں اب تک 43 لاکھ 73 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار بن چکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 27 ہزار 78 جانبر نہ ہوسکے۔

چین میں 2 ماہ بعد سب سے زیادہ کیسز رپورٹ

ادھر چین میں بھی 2 ماہ کے زائد عرصے کے دوران کورونا کیسز میں بڑا اضافہ دیکھا گیا اور میانمار کی سرحد سے منسلک شہر میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے نئے کیسز کی نشاندہی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:کووڈ 19 سے گردوں کو طویل المعیاد نقصان پہنچنے کا امکان

ریولی شہر میں 15 کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے شہریوں کو گھروں میں قرنطینہ کردیا ہے اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کا آغاز کردیا ہے۔

چین میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے اور باہر سے آئے کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 32 رہی جو 31 جنوری کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔

جاپانی حکام وائرس کی نئی اقسام سے پریشان

دوسری جانب جاپانی حکام کو خدشہ ہے کہ کورونا وائرس کی نئی اقدام ایسے وقت میں وبا کے چوتھی لہر کا سبب بن سکتی ہیں کہ جب ٹوکیو اولپمکس شروع ہونے میں صرف 109 روز باقی ہیں۔

نئی اقسام زیادہ متعدی معلوم ہوتی ہیں جو ویکسین کی مزاحمت کرسکتی ہیں جو اب تک جاپان میں بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں۔

خاص جاپان کے شہر اوساکا میں صورتحال زیادہ خراب ہے جہاں گزشتہ ہفتے ریکارڈ کیسز سامنے آئے جس کے بعد حکومت نے ایک ماہ کے لیے ٹارگٹڈ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کیے ہیں۔

سب سے پہلے برطانیہ میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی تبدیل شدہ قسم اوساکا میں تیزی سے پھیل رہی ہے جس سے ہسپتالوں میں مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

عالمی صورتحال

خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں چین میں سامنے آنے والی عالمی وبا دنیا کے 192 ممالک/خطوں تک پھیل چکی ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں اب تک یہ وبا 13 کروڑ 13 لاکھ 70 ہزار افراد کو اپنا شکار بنا چکی ہے جس میں سے 28 لاکھ 54 ہزار 127 انتقال کر گئے۔

تاہم 7 کروڑ 45 لاکھ 35 ہزار سے زائد صحتیاب ہونے میں کامیاب رہے، اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکا ہے جہاں 5 لاکھ 55 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔