معیشت کے مختلف شعبوں کو فروغ دینے کے اقدامات کی تجویز

اپ ڈیٹ 06 جون 2021
وزیر خزانہ شوکت ترین نے اجلاس کی صدارت کی
---فائل فوٹو: رائٹرز
وزیر خزانہ شوکت ترین نے اجلاس کی صدارت کی ---فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: اقتصادی مشاورتی کونسل (ای ای سی) نے درآمدات پر انحصار اور زرعی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن کے تحت شعبہ زراعت کے لیے بجٹ 22-2021 میں 41 ارب سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کونسل کی ذیلی کمیٹی نے بھی ملک میں آئی ٹی کی برآمدات اور ای کامرس کو فروغ دینے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔

مزید پڑھیں: بجٹ میں 110 ارب روپے کا زرعی پیکج متوقع

ای ای سی کی مختلف ذیلی کمیٹیوں نے وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ایک اجلاس کے دوران پالیسی اقدامات کی تجویز پیش کی۔

اس ذیلی کمیٹی کی سربراہی وزیر خوراک تحفظ فخر امام اور وزیر مملکت برائے صنعت خسرو بختیار سمیت جمشید چیمہ، غفران میمن، امیر عزیز، منصور، سلمان شاہ، ڈاکٹر عابد اور دیگر نے شرکت کی۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ نامیاتی زراعت کی تحقیق اور اس کے فروغ کے لیے بجٹ میں 4 ارب روپے مختص کیے جائیں جبکہ خوردنی تیل کے لیے سویا بین کا فروغ دیا جائے۔

اس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ اناج ذخیرہ کرنے کے لیے سائلوس کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے، کھاد سبسڈی کے لیے 12 ارب روپے، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو 20 فیصد کپاس (ایک وقت مختص) کی خریداری کے لیے 9 ارب روپے اور گودام کے لیے 8 ارب روپے مختص کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف ملے گا، فواد چوہدری

جن چیزوں پر اہمیت دی گئی وہ کپاس، زیتون، سویا بین، کھجور اور جینیاتی طور پر مویشیوں اور ماہی گیری میں بہتری ہے۔

پیداوار کے فرق کو ختم کرنے کے لیے تجویز کردہ اقدامات میں بیج کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل سبسڈی میکانزم کا تعارف، پانی کی کارکردگی کو بہتر بنانا، توسیعی خدمات کی بحالی، فصلوں کے بعد ذخیرہ کرنے اور تحقیقی اداروں کی تنظیم نو شامل ہیں۔

آئی ٹی سے متعلق ذیلی کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ ٹیکس کو ختم کیا جائے یا آئندہ 3 برس تک ٹیکس سے استثنیٰ ہو تاکہ گھریلو کارپوریٹ مارکیٹ کو بڑھانے اور مقامی سطح پر بے روزگاری کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

ذیلی کمیٹی نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اسٹارٹ اپ ایڈوانس ٹیکس چھوٹ کو دوبارہ پیش کیا جائے اور پانچ سال تک بڑھایا جائے۔

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذیلی گروپ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی زیر قیادت اجلاس کو بتایا کہ منصوبے وعدوں کے مطابق مکمل ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن سے تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں،اصلاحات پر مذاکرات کیلئے آمادہ ہیں، فواد چوہدری

انہوں نے مختصر، درمیانی اور طویل مدتی حکمت عملی کے ذریعے منظم انداز میں علاقائی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مختلف خصوصی معاشی زونوں میں سرمایہ کاری کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔

ثانیہ نشتر کی سربراہی میں سماجی تحفظ سے متعلق ذیلی کمیٹی نے اجلاس کو آئندہ برس میں احساس پروگرام کے مجوزہ منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا اور بجٹ مختص کرنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اجلاس کو بتایا کہ ای اے سی کا مقصد ترقی اور معیشت کے تمام شعبوں کی تبدیلی کے لیے ٹھوس مختصر، درمیانی اور طویل مدتی حکمت عملی بنانا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں