برطانیہ: کورونا سے سیاہ فام، ایشیائی افراد کی زیادہ ہلاکتوں پر تحقیقات

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2021
ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ عالمی وبا نے تعصب کے ساتھ صحت کی سہولیات سے متعلق فرق اور صنفی خطوط کی نشاندہی کی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ عالمی وبا نے تعصب کے ساتھ صحت کی سہولیات سے متعلق فرق اور صنفی خطوط کی نشاندہی کی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

برطانوی حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا کچھ طبی آلات میں نسلی تعصب کی وجہ سے سیاہ فام اور ایشیائی لوگ کورونا وائرس سے غیر متناسب طور پر بیمار اور مر رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری صحت ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ عالمی وبا نے تعصب کے ساتھ صحت کی سہولیات سے متعلق فرق اور صنفی خطوط کی نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں تیسرے درجے کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں سیاہ فام اور اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو منتقل کیا جارہا ہے جس میں ان کی نصف آبادی سے دگنی تعداد موجود ہے۔

محکمے کے اعداد و شمار نے شعبے اور طبی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اخذ کیا ہے کہ مارچ 2021 سے شروع ہونے والی عالمی وبا میں سیاہ فام اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی اموات کی شرح زیادہ ہے جبکہ ان کے مقابلے میں سفید فام افراد میں اموات کی شرح کم دیکھی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں کورونا کی ڈیلٹا قسم کے بعد ‘ڈیلٹا پلس’ کا پھیلاؤ جاری

ساجد جاوید کا کہنا تھا کہ تحقیق میں ایک مسئلہ سامنے آیا جس کے مطابق کھال کے ذریعے بلڈ آکسیجن کی پیمائش اور نبض کی جانچ کے آلات گہری رنگت کی کھال پر کام نہیں کرتے۔

انہوں نے اسے عالمی نظام کا مسئلہ قرار دیا۔

ساجد جاوید نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اسکائی نیوز‘ کو بتایا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ کسی نے جان بوجھ کر کیا ہے، میرے خیال سے طبی آلات میں یہ مسئلہ نظام کی وجہ سے ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ طبی کتابوں کے ساتھ مزید بڑھ سکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں جریدے ’سنڈے ٹائمز‘ نے لکھا کہ انہوں نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ جانبدارانہ عمل یا نادانستہ طور پر بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس سے صحت سے متعلق خراب نتائج موصول ہوں گے جو ہرگز قابل قبول نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کی نئی قسم زیادہ مہلک، متعدی ہے، برطانوی وزیراعظم

انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے امریکی ہم منصب صحت و انسانیت کی خدمات کے سیکریٹری زیویئر بیسیرا اور دیگر ممالک کے عہدیداران کے ساتھ کام کریں گے تاکہ صحت کے نظام میں جانبداری کا اندازہ لگایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے جائزے میں بھی صنفی جانبداری کو مدنظر رکھا جائے گا اور اس کے نتائج جنوری کے اختتام میں رپورٹ کیے جائیں گے۔

برطانیہ میں ایک لاکھ 43 ہزار سے زائد کورونا اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، یہ روس کے بعد یورپ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اس وقت یورپ دنیا کا واحد حصہ ہے جہاں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، متعدد ممالک میں وبا کے پیش نظر ایک بار پھر سفری پابندیوں کا اطلاق کردیا گیا ہے۔

آسٹریا میں آج (پیر) سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نفاذ کردیا جائے گا جبکہ نیدرلینڈز میں ہفتے کے اختتام پر حکومت کے غیر ویکسین شدہ افراد کو مختلف مقامات میں داخلے سے روکنے کے اعلان کے بعد پُرتشدد احتجاج بھی کیے گئے۔

مزید پڑھیں: کورونا کی برطانوی قسم توقعات سے دوگنا زیادہ جان لیوا

تاہم برطانیہ میں اموات تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور ہسپتالوں میں داخل ہونے کا عمل آہستہ آہستہ کم ہوتا جارہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ حکومت کو سرد موسم میں پلان ’بی‘ کی طرف بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، جس میں شہریوں کو ماسک پہننے اور گھروں سے کام کرنے کی ضرورت تھی۔

کورونا وائرس کیسز کی شرح میں برطانیہ کئی ماہ سے اپنے پڑوسی ممالک سے آگے ہے اور کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ملک بہتر صورت حال میں ہے۔

اینڈن برگ میں بپلک ہیلتھ یونیورسٹی کی پروفیسر لینڈا باؤلڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ اپنے یورپی پڑوسیوں کے مقابلے طویل عرصے سے تیزی سے منتقل ہونے والے ڈیلٹا ویرینٹ سے لڑ رہا ہے اور ’کیونکہ ہمارے پاس ماضی میں مریضوں کی تعداد زیادہ تھی اس لیے شاید ہماری آبادی میں قوت مدافعت زیادہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ میں اب 40 سال سے زائد عمر افراد کو بوسٹر ویکسین خوراک بھی لگائی جارہی ہے‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان، برطانوی سفری پابندی کی 'ریڈ لسٹ' میں برقرار

آکسفورڈ یونیورسٹی کے میڈیسن کے پروفیسر جوہن بیل کا کہنا ہے کہ ’انہیں نہیں لگتا کہ برطانیہ کو کرسمس میں ایک اور لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ پچھلے سال کرسمس میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا تھا‘۔

انہوں نے غیر ملکی ریڈیو اسٹیشن ’ٹائم ریڈیو‘ پر کہا کہ میرا مشورہ ہے آپ کرسمس کی تیاری جاری رکھیں کیونکہ سب کچھ ٹھیک رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ چھٹیاں آسٹریا میں منانے کا سوچ رہے ہیں تو مسائل اتنی آسانی سے حل نہیں ہوسکتے‘۔

تبصرے (0) بند ہیں