طالبان، امریکی حکام کے مابین آئندہ ہفتے ملاقات مثبت پیش رفت ہے، پاکستان

اپ ڈیٹ 26 نومبر 2021
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد فریقین کے درمیان یہ دوسری ملاقات ہوگی —فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد فریقین کے درمیان یہ دوسری ملاقات ہوگی —فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے امریکی نمائندوں کی طالبان حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ’خوش آئند پیش رفت‘ قرار دیا ہے جو جنگ زدہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ یہ خوش آئند پیش رفت ہوگی۔

مزید پڑھیں: امریکا کا طالبان کے ساتھ آئندہ ہفتے دوبارہ بات چیت کرنے کا اعلان

رواں برس اگست میں طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد سے پاکستان، طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کیے جانے کی مسلسل وکالت کرتا رہا ہے۔

اس ضمن میں عاصم افتخار نے کہا کہ ہم کہتے رہے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے روابط اور مختلف امور میں تعلقات افغانستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگا۔

امریکی اور طالبان حکام کی ملاقات آئندہ ہفتے دوحہ میں ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا طالبان کو فائدہ پہنچائے بغیر افغان بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی شامل کرنے پر غور

دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹام ویسٹ اور طالبان کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی اپنے، اپنے وفد کی قیادت کریں گے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد فریقین کے درمیان یہ دوسری ملاقات ہوگی جبکہ فریقین کی آخری ملاقات اکتوبر میں دوحہ میں ہوئی تھی۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بتایا کہ مذاکرات کے لیے افغان وزیر خارجہ کے وفد میں افغانستان کے تعلیم، صحت، مالیات، سیکیورٹی اور بینکنگ کے شعبوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

علاوہ ازین ٹام ویسٹ نے چین، روس اور پاکستان کے خصوصی نمائندوں کے ساتھ 11 نومبر کو اسلام آباد میں توسیعی ٹرائیکا میٹنگ کے موقع پر ملا امیر خان متقی اور دیگر طالبان حکام سے ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کا امریکی کانگریس سے اثاثے غیر منجمد کرنے، پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ

عبدالقہار بلخی نے کہا کہ طالبان حکام دوحہ میں اپنی مصروفیات میں سیاسی معاملات، منجمد غیر ملکی ذخائر، انسانی امداد، تعلیم، صحت اور کابل میں سفارت خانوں کی سیکیورٹی پر بات کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے امریکا کی جانب سے افغان ذخائر کو غیر منجمد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اور دیگر ممالک یہ کہتے رہے ہیں کہ اسے افغان عوام کی حمایت کے طور پر غور کرنے کی ضرورت ہے جنہیں بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے‘۔

طالبان کی حکومت پر مغربی پابندیوں اور افغان اثاثوں کو منجمد کرنے سے پیدا ہونے والے معاشی بحران نے افغانستان میں انسانی اور مالیاتی بحران کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں