سوشل میڈیا مہم کیس: میشا شفیع و علی گل پیر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت پر ضمانتی مچلکوں کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا—فائل فوٹو: انسٹاگرام/ فیس بک
عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت پر ضمانتی مچلکوں کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا—فائل فوٹو: انسٹاگرام/ فیس بک

لاہور کی مقامی عدالت نے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلانے کے کیس میں گلوکارہ میشا شفیع، کامیڈین علی گل پیر، ماہم جاوید، فیضان رضا اور حسیم الزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس میں ملزمان کی جانب سے حاضری استثنیٰ کی دائر کردہ درخواستوں پر ضلع کچہری کی عدالت میں 13 جنوری کو سماعت ہوئی۔

جوڈیشل میجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدم پیشی کی بنا پر میشا شفیع اور علی گل پیر سمیت دیگر ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

عدالت نے میشا شفیع اور علی گل پیر سمیت 5 ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست کو ناقابل وضاحت قرار دیا اور آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کو پچاس پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا۔

دوران سماعت عدالت نے ملزمہ فریحہ ایوب کی ضمانت درخواست قابل وضاحت قرار دی۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کیخلاف مہم چلانے کا کیس: میشا شفیع کی حاضری معافی کی درخواست

عدالت نے باقی ملزمان کی استثنیٰ کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور حکم دیا کہ ملزمان آئندہ سماعت پر ضمانتی مچلکوں کے ساتھ پیش ہوں۔

عدالت نے کامیڈین علی گل پیر کی جانب سے بریت کی درخواست پر بھی دلائل کے لیے وکلا کو آئندہ ماہ 8 فروری کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مذکورہ کیس میں میشا شفیع نے گزشتہ ماہ 21 دسمبر کو ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جب کہ دیگر ملزمان نے بھی حاضری سے مستثنیٰ سے متعلق عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔

علی ظفر کے خلاف تمام ملزمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کا فیصلہ عدالت نے 24 دسمبر 2021 کو محفوظ کرلیا تھا، جسے ممکنہ طور پر عدالت آئندہ ماہ تک سنائے گی۔

میشا شفیع اور علی گل پیر سمیت دیگر ملزمان کے خلاف گلوکار علی ظفر نے سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کی منظم مہم چلانے کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر مہم کا کیس: علی ظفر کی علی گل پیر کے خلاف کارروائی کی درخواست

علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے جانے کا مقدمہ ابتدائی طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں 2018 میں دائر کروایا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے نے تقریبا 2 سال تک تفتیش کی تھی۔

ایف آئی اے کی جانب سے دو سال تک تفتیش کیے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دسمبر 2020 میں اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی۔

عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، گلوکار علی گل پیر اور حمنہ رضا سمیت 9 افراد کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت سے ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں