لاہور: مٹیاری لائن کے کام پر اعتراضات کرنے والے افسران پر این ٹی ڈی سی برہم

16 جنوری 2022
مٹیاری۔لاہورہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن 
 4000لائن 
میگاواٹ کا منصوبہ ہے—فائل فوٹو:اے ایف پی
مٹیاری۔لاہورہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن 4000لائن میگاواٹ کا منصوبہ ہے—فائل فوٹو:اے ایف پی

پاک مٹیاری۔لاہور ٹرانسمیشن کمپنی(پی ایم ایل ٹی سی) کی مٹیاری۔لاہور ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن لائن کی کمرشل آپریشن تاریخ کے مطابق ادائیگیوں کی کلیئرنس کی مختلف وجوہات کی بنا پر مخالفت کرنے والے افسران کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) کی اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے اور افسران کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اعتراضات واپس لیں ورنہ انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔

ڈان اخبار کے مطابق ایک سینئر افسر کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ این ٹی ڈی سی حکام نے ضبط کر لیا ہے جبکہ حال ہی میں کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز میں اس افسر سے سرکاری گاڑیاں بھی واپس لے لی گئی ہیں۔

پی ایم ایل ٹی سی ایل کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں گزشتہ سال ستمبر میں مکمل ہونے والے منصوبے ایم ٹی ایچ وی ڈی سی لائن کے کام میں غلطیاں درست نہ کرنے پر ادائیگیوں کی مخالفت کرنے والے افسران کو مبینہ طور پر انتظامیہ کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے جس سے معاملہ سنگین رخ اختیار کرتا نظر آرہا ہے۔

ایک افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ نظام میں ایمانداری سے کام کرنے والوں کی بات سننے والا کوئی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں :این ٹی ڈی سی کا سی پیک کے تحت ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں خامیوں کا انکشاف

30 نومبر 2021 کو اس وقت کے جی ایم این ٹی ڈی سی (ایچ وی ڈی سی ) انجم عزیز کی جانب سے لکھے گئے خظ میں پی ایم ایل ٹی سی ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اونرز انجینئر امپلی مینٹیشن فیز رپورٹ کے مندرجات تعمیرات کے دوران کے ہیں، یہ رپورٹ لسٹ میں بتائی گئیں غلطیوں کی درستگی سے کافی پہلے کی ہے جس میں بعد میں ترمیم کی گئی اور این ٹی ڈی سی اور او ای نمانئدوں کی مشترکہ انسپکشن کے دوران کلیئر قرار دے دیا گیا۔

خط کے مطابق او ای کی جانب سے سول ورکس، ٹاور کی تنصیب، میٹریل ورکس،تار اور دیگر کاموں میں نشاندہی کی جانے والی تمام غلطیوں کو دور کردیا گیا لہٰذا او ای کی جانب سے تعمیراتی دستاویزات میں تعمیرات کے مکمل ہونے کی تصدیق کے بعد پی ایم ایل ٹی سی ادائیگی کے لیے کارروائی کرسکتا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی دن انجم عزیز کا تبادلہ کرکے ان کی جگہ صفدر علی کو لایا گیا اور ان کو جی ایم پراجیکٹ ڈیلیوری (نارتھ) تعینات کردیا گیا۔

صفدر علی نے 14 دسمبر کو پی ایم ایل ٹی سی کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے ای او (این ٹی ڈی سی کنسلٹنٹ) کی جانب سے ایچ وی ڈی سی لائن میں بتائے گئے سول ورکس، ٹاور مٹیریل، تنصیب، تار اور دیگر کاموں میں تضادات اور ان کی درستگی نہ ہونے کا حوالہ دیا۔

خط کے مطابق صفدر علی نے ناصرف پی ایم ایل ٹی سی کی گارنٹی پرفارمنس کمنٹمنٹ فراہم کرنے کی درخواست مسترد کی بلکہ انہوں نے لکھا کہ پی ایم ایل ٹی سی ایل ادائیگی کی حق دار نہیں ہے، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اعتراضات کلیئر کرنے کا 30 نومبر کو جاری کیا گیا خط منسوخ ہے۔

مزید پڑھیں :سی پیک پر کام کی سست رفتار سے چینی کمپنیاں پریشان

صفدر علی نے 17 دسمبر کو ایک اور خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ تمام اعتراضات اپنی جگہ برقرار ہیں اور این ٹی ڈی سی اور او ای نمائندوں کا آج تک کوئی مشترکہ معائنہ نہیں ہوا، انہوں نے 30 نومبر کے خط کے مندرجات کو بے بنیاد اور غلطیوں کی اصلاح تک ناقابل عمل قرار دیا، خط میں 30 نومبر کے خط کو منسوخ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پی ایم ایل ٹی سی ایل اعتراضات کو دور کرنے کی پابند ہے اور اصلاح کرنے تک ادائیگی کی حق دار نہیں ہے ۔

خط میں پی ایم ایل ٹی سی کو ترجیحی بنیادوں پر این ٹٰی ڈی سی حکام اور او ای کے ساتھ مشاورت کرکے غلطیوں کو درست کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

این ٹی ڈی سی کے او ای نےایچ وی ڈی سی جی ایم کو 22 دسمبر کو ایک رپورٹ جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ اسے منصوبے کے ٹیرف کے تعین میں دی گئی نیپرا کی ہدایات کے مطابق مرتب کیا گیا ہے جو کہ سی او ڈی میں منصوبے کی اصل قیمت کے تعین کے لیے ضروری ہے ۔

او ای کے خط میں کہا گیا کہ یہ بھی نوٹ کیا جائے کہ لائن کو دسمبر 2020 میں فعال کیا گیا اور کمپنی کی جانب سے نہ تو کسی اصلاحی کام کی پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ او ای کو دوبارہ معائنے کے لیے کہا گیا اور نہ کمپنی نے کسی باضابطہ مشترکہ معائنے کے لیے کوئی شیڈول تیار کیا۔

یہ بھی پڑھیں :سی پیک کے تمام منصوبے بروقت مکمل ہوں گے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی

ایچ وی ڈی سی کے جی ایم نے اپنے باس منیجنگ ڈائریکٹر کو 3 جنوری کو بتایا کہ مٹیاری سے لاہور تک 4ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے لیے این ٹی ڈی سی اور پی ایم ایل ٹی سی ایل کے درمیان پراجیکٹ پر دستخط کیے گئے تھے، ٹی ایس اے معاہدے کے مطابق سی او ڈی کو بائی پول انتظامات پر 4ہزار میگاواٹ بجلی کے اخراج کی کارکردگی کے بعد مکمل کیا جانا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ رکاوٹوں کی وجہ سے ایچ وی ڈی سی لائن کا 4ہزار میگا واٹ کا کیپیسٹی ڈیمسٹریشن ٹیسٹ نہیں ہوسکا جو کہ ٹی ایس اے معاہدے کے مطابق بائی پول انتظامات کے تحت ہونا تھا اور ٹی ایس اے منصوبے میں بغیر کسی ضمنی ترمیم کے 2800 میگا واٹ پر کیا گیا، افسر نے او ای خط میں بتائے گئے متعدد مسائل کا بھی حوالہ دیا۔

خط میں کہا گیا کہ مذکورہ بالا عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک ٹی ایس اے میں مطلوب تمام ضوابط کو مکمل نہیں کرلیا جاتا اور منصوبے میں موجود تمام تضادات کی اصلاح نہیں ہو جاتی۔

ایم ڈی این ٹی ڈی سی معاملے پر موقف دینے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں