امریکا، روس مذاکرات میں یوکرین کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

22 جنوری 2022
امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے جنیوا میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے 90 منٹ کی ملاقات کی — فائل فوٹو: رائٹرز
امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے جنیوا میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے 90 منٹ کی ملاقات کی — فائل فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن اور ماسکو کے اعلیٰ سفارت کاروں نے یوکرین کے معاملے پر تناؤ کم کرنے کے لیے کام کرنے پر اتفاق، امریکا کی جانب سے روسی سلامتی کے مطالبات پر تحریری جواب دینے کا وعدہ اور دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ملاقات کے امکان کو رد نہیں کیا گیا۔

غیر ملک خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی‘ کے مطابق جیسے جیسے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ روس اپنے مغرب نواز پڑوسی ملک پر حملہ کر سکتا ہے، امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے جنیوا میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے 90 منٹ کی ملاقات میں روسی حملے کی صورت میں سخت مغربی انتقامی کارروائیوں کی تجدید کی ہے۔

انٹونی بلنکن نے اعلیٰ سطح کی بات چیت کو ’بے خوف‘ اور ’غیر مناظرانہ’ قرار دیا جبکہ سرگئی لاروف نے مذاکرات کے دوران سرد جنگ کے سابق دشمنوں کے درمیان درجہ حرارت میں کمی کی امید بھی ظاہر کی۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین تنازع: امریکا اور روس کے جنیوا میں مذاکرات

روس نے یوکرین پر حملہ کرنے کے منصوبے سے انکار کیا ہے لیکن ساتھ ہی یوکرین کی سرحد پر اپنے ہزاروں فوجیوں کو تعینات کردیا ہے اور سلامتی کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے جس میں نیٹو میں شامل ہونے پر یوکرین پر مکمل پابندی شامل ہے۔

انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، اگلے ہفتے روس کے ساتھ تحریری خیالات کا تبادلہ کرے گا جس میں وہ اپنی پوزیشن بھی واضح کرے گا۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں آج کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں تھی لیکن مجھے یقین ہے کہ اب ہم ایک دوسرے کے تحفظات اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کے حوالے سے واضح راستے پر گامزن ہیں۔

مزید پڑھیں: روس نے یوکرین پر جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے، بائیڈن

ان کا کہنا تھا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ روس کے ساتھ اپنے تحفظات اور خیالات کو اگلے ہفتے تحریری طور پر مزید تفصیل سے شیئر کریں گے اور اس کے بعد ہم نے مزید بات چیت پر اتفاق کیا ہے۔

صحافیوں سے الگ بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ انہیں اگلے ہفتے تحریری جواب دینے کا وعدہ کیا گیا ہے، انٹونی بلنکن نے اتفاق کیا کہ ہمیں معقول مذاکرات کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ جذبات میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں کے درمیان ایک اور ملاقات ہو سکتی ہے، لیکن اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے کہ صدر امریکی جو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے درمیان ایک اور ملاقات ہو سکتی ہے جیسی گزشتہ جون میں جنیوا میں ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے پابندیاں عائد کیں تو دونوں ملکوں کے تعلقات ختم ہو جائیں گے، پیوٹن

انٹونی بلنکن نے جو بائیڈن کے دو بار ٹیلی فون پر پیوٹن کو یوکرین پر حملے کے نتائج سے خبردار کرنے کے بعد بھی دونوں صدور کے درمیان تازہ بات چیت کو مسترد نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اور روسی حکام یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ معاملات کو حل کرنے کا بہترین طریقہ ان کے درمیان مزید بات چیت ہے تو ہم یقینی طور پر ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔


یہ خبر 22 جنوری 2022 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں