عثمان خواجہ اپنی 'جائے پیدائش' پر میچ کھیلنے کیلئے پرجوش

اپ ڈیٹ 01 مارچ 2022
عثمان خواجہ نے جنوری میں ایشز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں شاندار سنچری بنا کر ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائی—فائل فوٹو:رائٹرز
عثمان خواجہ نے جنوری میں ایشز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں شاندار سنچری بنا کر ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائی—فائل فوٹو:رائٹرز

پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے لیے 24 سال بعد پاکستان کے دورے پر آنے والی ٹیم کے ساتھ کھیلنے کے لیے آنا کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عثمان خواجہ جب چار سال کے تھے تو ان کا خاندان آسٹریلیا ہجرت کر کے سڈنی میں آباد ہو گیا تھا۔

جب انہوں نے 2011 میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منواتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت اختیار کی تو وہ کینگروز کی ٹیم میں شامل ہونے والے پہلے مسلمان کرکٹر تھے۔

عثمان خواجہ کی کہانی کا ایک پہلو ان کا کھیل بھی ہے، بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم سے گزشتہ دو سال سے باہر تھے۔

بعدازاں انہوں نے جنوری میں اپنے شہر سڈنی میں ایشز کے چوتھے ٹیسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد میچ کی دونوں اننگز میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچری بنا کر دوبارہ ٹیم میں جگہ پکی کی۔

یہ بھی پڑھیں:ایشز: عثمان خواجہ کی آسٹریلوی ٹیم میں شاندار واپسی، دونوں اننگز میں سنچری

جنوری میں ایشز سیریز کے دوران کھیلے جانے والے سڈنی ٹیسٹ میں عثمان خواجہ کی ٹیم میں شمولیت کی وجہ نمبر 5 پر بلے بازی کرنے والے کھلاڑی ٹریوس ہیڈ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنا تھی۔

جس کے ایک ماہ بعد ہی آسٹریلیا نے 1998 کے بعد پاکستان کے اپنے پہلے دورے کی تصدیق کی کردی اور پاکستان کے شہروں راولپنڈی، کراچی اور لاہور میں ہونے والے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے عثمان خواجہ کو ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔

اب عثمان خواجہ دورہ پاکستان کے دوران جارح مزاج بلے باز ڈیوڈ وارنر کے ساتھ بطور اوپنر اپنے معمول کے کردار پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔

پیٹ کمنز کی قیادت میں اسلام آباد پہنچنے کے ایک روز بعد دورہ پاکستان سے متعلق بات کرتے ہوئے ایک ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ میرا پاکستان میں کھیلنا میرے بہت خاص ہے۔

مزید پڑھیں:عثمان خواجہ کی آسٹریلین ٹیم میں واپسی

اپنے جذباتی بیان میں عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے ساتھ پاکستان کا دورہ کرنا وہ چیز ہے جس کی مجھے ہمیشہ سے چاہت تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن جب 12 سے 16 مارچ تک کراچی میں دوسرے ٹیسٹ اور 21 سے 25 مارچ تک لاہور میں تیسرے ٹیسٹ سے قبل 4 مارچ کو شروع ہونے والی سیریز کے ابتدائی ٹیسٹ میں پہلی گیند پھینکی جائے گی تو جذبات کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔   عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت میں تھوڑا جذباتی ضرور ہورہا ہوں لیکن جب کھیل شروع ہوتا ہے تو اس کے بعد آپ اس چیز کے بارے میں اس طرح نہیں سوچتے۔

عثمان خواجہ نے انکشاف کیا کہ وہ اب تک 4 مرتبہ پاکستان آچکے ہیں اور آخری بار 2010 میں پاکستان آئے تھے۔

عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ میں راولپنڈی میں کھیلنے کا منتظر ہوں، جہاں میں بچپن میں پرانے اسٹیڈیم گیا تھا اور ایک بار کھیل چکا ہوں جبکہ کراچی بھی میرے لیے بہت خاص ہے جہاں میرے رشتہ دار رہتے ہیں، لیکن چونکہ ہم سیکیورٹی ببل میں ہیں اس لیے کسی رشتے دار سے ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جب عثمان خواجہ کو پاکستانی کھلاڑی سمجھ لیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ آسٹریلیا کے لیے کھیلنا چاہتا تھا کیونکہ میں نے اپنی پوری زندگی وہیں گزاری ہے، یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے 2011 میں انگلینڈ کے خلاف آسٹریلیا کی جانب سے کھیلنے کا موقع ملا، میں کافی طویل عرصے سے آسٹریلیا کے لیے کھیل رہا ہوں، اس دوران ٹیم سے باہر ہوا، پھر واپس آیا، آسٹریلیا کے لیے اب مزید کھیلنا میرے لیے ایک زبردست بونس کی طرح ہے۔

عثمان خواجہ کا میڈیا سے گفتگو کے دوان خوشگوار موڈ میں کہنا تھا کہ مجھے پاکستان میں ہمیشہ بہت سپورٹ ملی، مجھے لگتا ہے کہ پاکستانی مجھے اس بار بھی سپورٹ کریں گے، فینز چاہیں گے کہ میں رنز بناؤں لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستانی شائقین یہ بھی چاہیں گے کہ آسٹریلیا میچ ہارے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان میں ہمیں غصیلے اور سخت مزاج شائقین کا سامنا ہوگا، پاکستانی کرکٹ سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، وہ اچھی کرکٹ کی تعریف کرتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اسی چیز کی توقع کر رہے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹ کمنز نے عثمان خواجہ کو ’شیمپیئن شاور‘ سے بچا کر مداحوں کے دل جیت لیے

"انہوں نے مزید کہا کہ میرے والدین پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں اور میں آسٹریلیا کی حمایت کرتا ہوں، لیکن میں پاکستانی ثقافت کی پیروی کرتا ہوں اور گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ اردو بولتا ہوں، انہوں نے بتایا کہ کچھ اس طرح کے حالات تھے جس کے باعث ان کے والدین پاکستان نہیں آسکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میرے والد کرکٹ سے محبت کرتے ہیں اور اسے پوری زندگی دیکھتے رہے ہیں۔ وہ بہت خوش ہیں کہ مجھے پاکستان میں کھیلنے کا موقع ملا، میرے والد اور والدہ دونوں یہاں آکر مجھے کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، خاص طور پر راولپنڈی میں جہاں ہم رہتے تھے، لیکن کچھ حالات کے باعث وہ نہیں آسکے، مجھےامید ہے اپنے آرام دہ کمرے سے وہ مجھے دیکھ سکتے ہیں۔

عثمان خواجہ نے پاکستانی اسکواڈ میں فاسٹ باؤلنگ اور بیٹنگ کے معیار کی تعریف کی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی پاکستان اور بھارت دوطرفہ سیریز کا آغاز کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پاک بھارت میچز دیکھتے ہوئے بڑا ہوا ہوں، امید ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل انہیں دوبارہ ایک ساتھ کھیلنے پر آمادہ کرے گی۔

ضرور پڑھیں

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

ورلڈ کپ 1992ء کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں ہار سہنے کے بعد تو حوصلے ایسے ٹوٹے کہ دوبارہ فائنل تک پہنچنے میں 27 سال لگ گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں