ٹرمپ کابیان مایوس کن، پاکستان کی قربانیوں کے خلاف ہے، این ایس سی

ای میل

نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کے سترھویں اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے الزامات پر 'شدید مایوسی' کا اظہار کرتے ہوئے بیان کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور پاکستان کی قربانیوں سے انکار کے مترادف قرار دے دیا گیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے این اسی سی کے جلاس میں ڈونلڈٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات اور اسٹریٹجک صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی اور معیشت کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔

قومی سلامتی کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام تر غیر ضروری الزامات کے باوجود پاکستان صبر و تحمل کا مظاہر ہ کرے گا تاہم قیام امن کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔

قومی سلامتی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں ٹرمپ کی جانب سے 33 بلین ڈالرز دینے حوالے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'پاکستان کی جانب سے ہزاروں شہریوں کے جانوں سمیت بری قربانیاں دی گئی ہیں اس کو صرف امداد کے پیچھے چھپانا اور ایسا تصور کرنا بھی دلخراش ہوسکتا ہے'۔

اعلامیے کے مطابق امریکی قیادت کے حالیہ بیانات حقائق اور رابطوں کے خلاف ہیں حالانکہ امریکی وزرا ٹیلرسن اور میٹس کے دورے بہت مثبت رہے تھے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو کھلی چھٹی حاصل ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامی پاکستان پر نہیں تھوپی جاسکتی، افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان نہیں۔

اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر دفاع خرم دستگیر سمیت مشیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری بھی شریک تھے۔

اس کے علاوہ قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان اور پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی بھی شریک ہوئے۔

قبل ازیں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس 3 جنوری کو طلب کیا گیا تھا تاہم ہنگامی بنیادوں پر آج ہی یہ اجلاس طلب کیا گیا۔

33بلین ڈالرزکے آڈٹ سے پتہ چلے گا کون دھوکا دے رہا، خواجہ آصف

وزیرخارجہ خواجہ آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اگر 15 برس کے دوران 33 بلین ڈالرز سے زائد ملنے والی امداد کا آڈٹ کیا جائے تو امریکی صدر غلط ثابت ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹ پر پاکستانی سیاستدانوں کا سخت ردعمل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے سرکاری سطح پر بیان آنے سے قبل ہی وزیر خارجہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو گزشتہ 15 برس میں 33 بلین ڈالرز امداد دینے کا بیان دیا، وہ امریکی آڈٹ کمپنی کے ذریعےہمارے اخراجات کے اعداد وشمار کو جان سکتے ہیں'۔

خواجہ آصف نے کہا کہ '33 بلین ڈالرز کے آڈٹ کے بعد دنیا کو پتہ چلے گا کہ کون جھوٹ بول رہا ہے اور دھوکا دے رہا ہے'۔

دوسری جانب قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس 5 جنوری کو پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کرلیا گیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کریں گے جبکہ اس اجلاس میں بھی ٹرمپ کی دھمکی سمیت دیگر قومی سلامتی امور کا جائزہ لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ قومی سلامتی کے اجلاس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرِ صدارت کور کمانڈرز اجلاس بھی منقعد ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، ٹرمپ کی ٹویٹ پر احتجاج

یاد رہے کہ یکم جنوری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’امریکا نے پاکستان کو 15 سال میں 33 ارب ڈالر سے زائد امداد دے کر بے وقوفی کی، پاکستان نے امداد کے بدلے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا جبکہ وہ ہمارے رہنماؤں کو بیوقوف سمجھتا ہے۔‘

امریکی صدر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں معمولی مدد ملتی ہے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا۔‘

امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے پاکستان سے متعلق ٹوئٹ پر جلد ردعمل دیں گے اور دنیا کو حقیقت سے آگاہ کریں گے۔