خدیجہ صدیقی کیس: لاہور ہائی کورٹ بار کی قرار داد پر چیف جسٹس برہم

اپ ڈیٹ 10 جون 2018

ای میل

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے خدیجہ صدیقی کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ بار کی قرار داد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزم کے والد کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی وکیل کی بیٹی کے ساتھ ایسا ہوا ہوتا تو کیا آپ کا رویہ یہی ہوتا؟

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں خدیجہ کیس کے ملزم کی بریت کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس نے خدیجہ صدیقی کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ بار کی قرار داد پر برہمی کا اظہار کیا اور خدیجہ کیس میں ملزم شاہ حسین کے والد کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے سپریم کورٹ کے خلاف قرار داد کیسے پاس کروائی؟ آپ نے عدالت کے خلاف مہم کس طرح چلائی؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی وکیل کی بیٹی کے ساتھ ایسا ہوتا تو کیا آپ کا رویہ یہی ہوتا؟

مزید پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ: قانون کی طالبہ کو زخمی کرنے والا حملہ آور بری

خدیجہ صدیقی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے سوالوں کے جواب دے رہی ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
خدیجہ صدیقی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے سوالوں کے جواب دے رہی ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

اس موقع پر خدیجہ نے روسٹرم پر آکر عدالت کو بتایا کہ میری کردار کشی کی جارہی ہے، انہوں نے استدعا کی کہ مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

کیس کے ملزم شاہ حسین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خدیجہ کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔

جس پر عدالت نے خدیجہ کیس میں ملزم کی بریت کے خلاف اپیل سماعت کے لیے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بینچ کو بھجوادی۔

ازخود نوٹس لینے کے اختیار کے خلاف قرارداد

8 جون 2018 کو لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن (ایل ایچ سی بی اے) کے جنرل ہاؤس نے ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کا فل بینچ از خود نوٹس لینے کے حوالے سے باقاعدہ اصول وضع کرے۔

واضح رہے یہ قرار داد ایڈووکیٹ تنویر ہاشمی کی جانب سے پیش کی گئی جو خدیجہ صدیقی پر چھریوں کے وار کے مقدمے کے ملزم شاہ حسین کے والد ہیں اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مذکورہ ملزم کی بریت کے فیصلے کے خلاف ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انوارالحق پنو اور دیگر سینئر وکلا بشمول حافظ عبدالرحمٰن انصاری، احسان وائیں، اور زاہد حسین بخاری نے بھی جنرل ہاؤس سے خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر خدیجہ کیلئے انصاف کا مطالبہ

مقررین کا کہنا تھا کہ از خود نوٹسز کے سلسلے میں آئین کی دفعہ 184 (3) کے تحت اصول وضع کیے جانے چاہیے جو بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ کو بااختیار بناتی ہے۔

اس ضمن میں خدیجہ صدیقی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے لیے گئے از خود نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مذکورہ معاملے میں از خود نوٹس لینے کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ مدعیہ کے پاس مذکورہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اختیار موجود تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 10 جون کو سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں خدیجہ صدیقی کے مقدمے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ بار مذکورہ معاملے کو عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔

خدیجہ صدیقی حملہ کیس

یاد رہے کہ 5 جون 2018 کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے قانون کی طالبہ پر چھریوں کے وار کرنے کے مقدمے میں بری ہونے والے ملزم کی رہائی کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

خیال رہے کہ 4 جون 2018 کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ ملزم کے حق میں سنایا تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیار کے خلاف قرارداد منظور

واضح رہے کہ خدیجہ صدیقی کو ان کے ساتھی طالب علم شاہ حسین نے 3 مئی 2016 کو شملہ ہلز کے قریب اس وقت چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن کو اسکول سے لینے جارہی تھی۔

خدیجہ اپنی 7 سالہ بہن صوفیہ کو اسکول سے گھر واپس لانے کے لیے گئی تھی اور ابھی اپنی گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ ہیلمٹ پہنے شاہ حسین ان کی جانب بڑھے اور خدیجہ کو 23 بار خنجر کے وار کر کے شدید زخمی کردیا۔

واقعے کے ایک ہفتے کے اندر لاہور ہائی کورٹ میں ملزم کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا، عدالت کے سامنے شواہد پیش کیے گئے اور شاہ حسین کی شناخت یقینی بنانے کے لیے ویڈیو فوٹیج بھی پیش کی گئی۔

مزید پڑھیں: جج پر جانبداری کا دعویٰ نشر کرنے پر عدالت کا میڈیا سے معافی کا مطالبہ

تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ستمبر 2016 میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کیے جانے کے باوجود دوماہ بعد شاہ حسین کو سیشن کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری مل گئی۔

بعد ازاں 29 جولائی 2017 کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے شاہ حسین کو 7 برس کی سزا سنادی تھی تاہم رواں سال مارچ میں سیشن کورٹ نے ان کی اپیل پر سزا کم کرکے 5 سال کردی تھی جس پر مجرم نے دوسری اپیل دائر کردی تھی۔

سینئر وکیل کے بیٹے شاہ حسین نے سیشن عدالت کے 5 سال قید کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس پر لاہور ہائی کورٹ جسٹس نے ان کی بریت کا فیصلہ سنا دیا تھا۔