جج پر جانبداری کا دعویٰ نشر کرنے پر عدالت کا میڈیا سے معافی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 07 جون 2018

ای میل

لاہور ہائی کورٹ نے چھریوں کے وار سہنے والی قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی کے دعوے کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ خدیجہ صدیقی کو ان کے ساتھی طالب علم شاہ حسین نے 3 مئی 2016 کو شملہ ہلز کے قریب اس وقت چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن کو اسکول چھوڑنے جارہی تھی۔

خیال رہے کہ چھریوں کے وار سے بچ جانے والی خدیجہ صدیقی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں جج کے چیمبر میں بلا کر ان پر حملہ کرنے والے شاہ حسین سے صلح کرنے کا کہا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’جسٹس نعیم کی جانب سے شاہ حسین کی 5 سال قید کی سزا کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے جو فیصلہ سنایا گیا تھا اس پر الیکٹرانک میڈیا، سوشل اور پرنٹ میڈیا پر میں مختلف وضاحتیں چلائی گئیں تھیں۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کا خدیجہ صدیقی کے حملہ آور کی رہائی پرازخود نوٹس

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے فریقین کیس کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ ملزم کے حق میں سنایا تھا۔

رجسٹرار نے رواں ہفتے کے آغاز میں ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں خدیجہ صدیقی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں معزز جج نے اپنے چیمبر میں بلا کر ملزم شاہ حسین سے اس کے والد کی موجودگی میں صلح کرنے کا کہا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ نہیں واضح کیا کہ خدیجہ نے کس انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تاہم ڈان نیوز ٹی وی کے پروگرام ’زرا ہٹ کے‘ میں اپنے دعوے کی تصدیق کرنے کے سوال پر خدیجہ صدیقی نے جج کا نام بتائے بغیر کہا تھا کہ کیس کی کارروائی کے دوران جج نے انہیں اپنے چیمبر میں بلا کر ان سے ملزم کے ساتھ صلح کرنے کا پوچھا تھا جس کا ان کے مطابق انہوں نے انکار کردیا تھا۔

رجسٹرار کا کہنا تھا کہ خدیجہ صدیقی نے معزز جج پر گورنر پنجاب ملک محمد رفيق رجوانہ‬ کے زیر اثر آ کر ملزم کی بریت کا فیصلہ سنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کا کہنا تھا کہ خدیجہ کے دعوے من گھڑت اور غیر سنجیدہ تھے اور انہیں الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا پر شائع و نشر کیا گیا تھا جو عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ: قانون کی طالبہ کو زخمی کرنے والا حملہ آور بری

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مہم معزز جج کے خلاف نہیں بلکہ عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے‘۔

انہوں نے خبر کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس جرم میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے الیکٹرانک میڈیا سے 3 روز کے اندر اپنے پرائم ٹائم کے دوران من گھڑت خبر چلانے پر معافی مانگنے اور پرنٹ میڈیا کو اپنے فرنٹ پیج پر معافی نامہ شائع کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت کے رجسٹرار نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی اور پریس کونسل آف پاکستان کو اس حوالے سے اپنی رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔