پاکستانی بیٹنگ پھر ناکام، جنوبی افریقہ کی مجموعی برتری 212رنز

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2019

ای میل

ڈوان اولیویئر نے عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں لیں— فوٹو: اے ایف پی
ڈوان اولیویئر نے عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں لیں— فوٹو: اے ایف پی

باؤلرز کی عمدہ کارکردگی اور ہاشم آملا کی ذمے دارانہ بیٹنگ کی بدولت جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے مجموعی طور پر 212 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے۔

کیپ ٹاؤن میں کھیلے جا رہے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان نے 17رنز دو کھلاڑی آؤٹ سے اپنی پہلی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو محمد عباس اور امام الحق وکٹ پر موجود تھے۔

دونوں کھلاڑیوں نے دن کے ابتدا میں سنبھل کر بیٹنگ کی اور میزبان فیلڈر کے ڈراپ کیچز سے تقویت پاتے ہوئے دن کے پہلے گھنٹے میں جنوبی افریقی باؤلرز کو پریشان کیے رکھا اور ٹیم کی نصف سنچری مکمل کرائی۔

مزید پڑھیں: جوہانسبرگ میں جنوبی افریقہ 262رنز پر آؤٹ

دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 47رنز جوڑے اور اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب عباس 11 رنز بنانے کے بعد اولیویئر کی وکٹ بن گئے۔

تاہم پاکستان کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب دو گیندوں بعد ہی تجربہ کار اسد شفیق بغیر کوئی رن بنائے وکٹوں کے عقب میں کیچ ہو گئے۔

امام الحق نے دوسرے اینڈ سے بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور بابر اعظم کے ہمراہ 38 جوڑے ہی تھے کہ ورنن فلینڈر نے اپنی ٹیم کو ایک اور اہم کامیابی دلاتے ہوئے اوپننگ بلے باز کی 41رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

91رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد بابر اور کپتان سرفراز احمد کی جوڑی وکٹ پر یکجا ہوئی اور دونوں کھلاڑیوں نے جنوبی افریقی باؤلنگ کے خلاف جارحانہ پالیسی اپناتے ہوئے تیز کھیل پیش کیا۔

دونوں نے صرف 59 گیندوں پر 78رنز کی شراکت قائم کی جس میں سرفراز کی 40 گیندوں پر نصف سنچری بھی شامل تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب یہ دونوں کھلاڑی ٹیم کو خسارے سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن کگیسو ربادا نے پاکستانی کپتان کی اننگز کے آگے فل اسٹاپ لگاتے ہوئے اس اہم شراکت کا خاتمہ کردیا۔

اگلے ہی اوور میں اولیویئر نے بابر کا بھی کام تمام کردیا جنہوں نے 49رنز بنائے جبکہ فہیم اشرف پہلی گیند پر آؤٹ ہو کر اولیویئر کے لیے ہیٹ ٹرک کی امید پیدا کر گئے جسے محمد عامر نے ناکام بنا دیا لیکن 169 رنز پر قومی ٹیم یکدم تین وکٹیں گنوا کر پھر بیچ منجدھار میں پھنس گئی۔

اس کے بعد جنوبی افریقہ کو قومی ٹیم کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور پوری ٹیم 185 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، پاکستان کے 6 بلے باز ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے اولیویئر نے ایک مرتبہ پھر عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں اپنے نام کیں جبکہ فلینڈر نے تین اور ربادا نے دو وکٹیں لیں۔

پہلی اننگز میں 262 رنز بنانے والی میزبان ٹیم نے 77رنز کی بھاری برتری حاصل کی۔

دوسری اننگز میں اوپنرز نے جنوبی افریقی ٹیم کو 24رنز کا آغاز فراہم کیا ہی تھا کہ قائم مقام کپتان ڈین ایلگر محمد عامر کو وکٹ دے بیٹھے جبکہ اسکور میں پانچ رنز کے اضافے سے ایڈن مرکرم کی اننگز بھی عباس کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوئی۔

ہاشم آملا اور تھیونس ڈی برون نے اسکور کو 45 تک پہنچایا ہی تھا کہ فہیم اشرف نے ایک ہی اوور میں ڈی برون اور پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے زبیر حمزہ کی وکٹیں لے کر جنوبی افریقی کیمپ میں ہلچل مچا دی۔

پاکستان کو دس رنز کے اضافے سے ہی اس وقت کامیابی ملی جب ہاشم آملا ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے لیکن جنوبی افریقہ بلے باز نے فوری طور پر ریویو کا فیصلہ کیا اور ری پلے سے واضح تھا کہ گیند ان کے بلے سے لگنے کے بعد پیڈ سے ٹکرائی لہٰذا وہ ناٹ آؤٹ قرار پائے۔

اس کے بعد انہوں نے باووما کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کے لیے 48رنز جوڑے تاہم جلد ہی شاداب خان کی گیند پر باووما کی 23رنز کی اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔

نئے بلے باز کوئنٹن ڈی کوک نے آتے ہی روایتی جارحانہ انداز اپنایا اور ہاشم آملا کے ساتھ مل کر دن کے اختتام تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔

جب میچ کے دوسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو جنوبی افریقہ نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 135رنز بنائے تھے اور میچ میں مجموعی طور پر 212 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے، آملا 42 اور ڈی کوک 34رنز پر کھیل رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف نے دو، عامر، عباس اور شاداب نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

واضح رہے کہ تین میچوں کی سیریز میں جنوبی افریقہ کو 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔