وزیر خارجہ کا عالمی ادارہ صحت سے کشمیریوں کی زندگی بچانے کیلئے اقدامات کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ  صحت ڈاکٹر ٹیڈروس سے ملاقات کی—تصویر: نوید صدیقی
شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر ٹیڈروس سے ملاقات کی—تصویر: نوید صدیقی

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں جاری اقوامِ متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس کے موقع پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس، سینیگال کے وزیر خارجہ احمدوبا اور او آئی سی گروپ کے سفراء سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دوران ملاقات مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل کرفیو کے سبب انسانی جانوں کو درپیش شدید خطرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے ڈاکٹر ٹیڈروس کو آگاہ کیا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ کر رکھا ہے صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ خوراک اور ادویات تک میسر نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ یو این ایچ سی آر کے اجلاس میں شرکت کیلئے سوئٹزر لینڈ پہنچ گئے

انہوں نے بتایا کہ میڈیکل سٹاف کو حاملہ خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے جس کے باعث مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویش ناک صورتحال ایک نئے انسانی المیے کے رونما ہونے کی نشاندہی کر رہی ہے۔

انہوں نے عالمی ادارہ صحت سے لاکھوں نہتے کشمیریوں کی زندگیاں بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کونسل برائے انسانی حقوق کے 42 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے 9 سے 11 ستمبر تک سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا کا دورہ کررہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے مندوبین کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ہے، سربراہ انسانی حقوق اقوام متحدہ

اجلاس کے دوران شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اورغیر قانونی اقدامات کے معاملے پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کروائی اور ان کے نتیجے میں خطے کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا۔

وزیرخارجہ جینیوامیں عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے علاہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

اس کے علاوہ وہ جینیوامیں مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور مختلف عالمی اور علاقائی مسائل پرپاکستان کاموقف اور نقطہ نظر پیش کیا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ مشیل باشیلے نے بھی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت کے اقدامات کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا تھا کہ شہریوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

شاہ محمود قریشی کی سینیگال کے وزیر خارجہ سے ملاقات

علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر سینیگال کے وزیر خارجہ احمدوبا سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے غیر انسانی سلوک اور مقبوضہ وادی کے عوام کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا۔

ملاقات میں وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ’انسانی حقوق کونسل کی صدارت کا منصب سینیگال کے پاس ہونے کے باعث ہمیں آپ سے بہت سی توقعات ہیں‘۔

شاہ محمود قریشی نے آگاہ کیا کہ بھارتی فورسز رات کی تاریکی میں گھروں میں گھس کر بچوں اور نوجوانوں کو جبراً اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: کشمیر کے معاملے پر پاک-بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا ہے‘۔

علاوہ ازیں وزیر خارجہ نے افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

شاہ محمود قریشی نے سینیگال کے وزیر خارجہ کو بتایا کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے ہائی کمشنر آفس کی جون 2018 اور جولائی 2019 کی رپورٹس، انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

سینیگال کے وزیر خارجہ احمدوبا نے اس ساری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

او آئی سی گروپ کے سفراء کی پاکستانی موقف کی حمایت

بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں او آئی سی گروپ کے سفراء سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ طور پر اٹھائے گئے بھارتی اقدامات اور ان کے مضمرات پر تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی یکطرفہ منسوخی دراصل غیر آئینی اقدامات اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے صریحاً منافی ہیں۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نئی دہلی ان یکطرفہ اقدامات کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔

وزیر خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے او آئی سی کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ او آئی سی نے واضح اور واشگاف الفاظ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرانے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کروانے کا مطالبہ کیا۔

مزیدپڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود بھارت مخالف مظاہرے

جس پر او آئی سی گروپ جنیوا کے بیشتر سفراء نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے او آئی سی کے عزم کو دہرایا اور پاکستان کے موقف کی تائید میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی کھل کر مذمت کی۔

وزیر خارجہ نے او آئی سی کے پلیٹ فارم پر کیے گئے فیصلوں کو موثر انداز میں انسانی حقوق کونسل تک پہنچانے پر او آئی سی جنیوا گروپ کے کردار کو بھی سراہا۔

واضح رہے کہ پاکستان او آئی سی جنیوا گروپ کا کوآرڈینیٹر ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

بی جے پی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈاکٹروں نے مقبوضہ کشمیر جانے کیلئے بھارت سے ویزا مانگ لیا

مقبوضہ کشمیر سے متعلق نریندر مودی کی حکومت کے فیصلے پر پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور دوطرفہ تجارت معطل کردیئے تھے، بھارتی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ بھارت جانے والی ٹرین اور بس سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔

علاوہ ازیں گزشتہ دنوں پاکستان نے آئس لینڈ جانے کے لیے بھارتی صدر کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت سے متعلق درخواست بھی مسترد کردی تھی۔