مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ہے، سربراہ انسانی حقوق اقوام متحدہ

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2019

ای میل

مشیل باشیلے نے بھارت کو شہریوں کے حقوق کے تحفظ کرنے کا مطالبہ کیا—فوٹو:اے پی
مشیل باشیلے نے بھارت کو شہریوں کے حقوق کے تحفظ کرنے کا مطالبہ کیا—فوٹو:اے پی

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ مشیل باشیلے نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت کے اقدامات کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں افتتاحی تقریر میں مشیل باشیلے نے کہا کہ 'بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کے کشمیریوں پر پڑنے والے اثرات پر مجھے گہری تشویش ہے'۔

انہوں نے اپنی تقریر میں مقبوضہ کشمیر میں 'انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع اور پرامن اجلاس پر پابندی اور مقامی سیاسی قیادت اور کارکنوں کی گرفتاریوں' کو بھی اجاگر کیا۔

یہ بھی پڑھیں:محرم الحرام کے پیشِ نظر مقبوضہ کشمیر کے محاصرے میں مزید سختی

مشیل باشیلے کا کہنا تھا کہ میں بھارت اور پاکستان دونوں ممالک پر زور دیتی ہوں کہ وہ خطے میں انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ 'میں خاص کر بھارت سے اپیل کرتی ہوں کہ لاک ڈاؤن یا کرفیو میں نرمی لائیں، شہریوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنائے اور جنہیں گرفتار کیا گیا ہے ان کے حقوق کا احترام کیا جائے'۔

مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کسی قسم کے فیصلے کے حوالے سے وہاں کے شہریوں سے مشاورت اور ان کی شمولیت ضروری ہے'۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو محرم کے مہینے میں سخت پابندیوں کا سامنا ہے اور اس حوالے سے جلسے جلوسوں پر مکمل پابندی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئین کا آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ عملی اقدام اٹھائے، ملیحہ لودھی

بھارت کی حکومت نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے قبل مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا اور تمام سیاسی قیادت سمیت سیکڑوں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا تھا اور ساتھ مواصلات کے تمام ذرائع پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کا 5 اگست 2019 سے اب تک بیرونی دنیا سے ہرقسم کا رابطہ منقطع ہے جبکہ بھارت نے وادی میں احتجاج اور مظاہروں کو کچلنے کے لیے 38 ہزار سے اضافی فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کردیا ہے۔

جنیوا میں اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی روانہ ہوگئے جہاں وہ متوقع طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر خارجہ یو این ایچ سی آر کے اجلاس میں شرکت کیلئے سوئٹزر لینڈ روانہ

مشیل باشیلے نے اپنی تقریر میں نہ صرف کشمیر بلکہ بھارت کی ریاست آسام میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی نمایاں کیا۔

بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں سمیت دیگر شہریوں کی متنازع رجسٹریشن پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ اس اقدام سے یہ خوف پیدا ہوا ہے کہ بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلمانوں کو ریاست سے بے دخل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

رجسٹریشن کے نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست میں بڑے پیمانے میں بے یقینی اور خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ آسام میں 31 اگست کو شہریوں کی رجسٹریشن کے نام پر تقریباً 19 لاکھ افراد کو حتمی فہرست سے خارج کردیا گیا تھا۔

مشیل باشیلے نے کہا کہ 'میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اپیل کے موقع پر شہریوں کی بے دخلی یا گرفتاری سے گریز کرے اور عوام کو ریاست سے باہر ہونے سے تحفظ دے'۔