کشمیر کے معاملے پر پاک-بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2019

ای میل

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ 2 ہفتے پہلے جو تناؤ تھا اس میں کمی آئی ہے — فائل فوٹو/ ہیرالڈ
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ 2 ہفتے پہلے جو تناؤ تھا اس میں کمی آئی ہے — فائل فوٹو/ ہیرالڈ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تناؤ میں گزشتہ 2 ہفتے میں کمی آئی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر تنازع چل رہا ہے، میں سمجھتا ہوں 2 ہفتے پہلے دونوں ممالک میں جتنا تناؤ تھا اس میں کمی آئی ہے اور میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکا کے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اگر دونوں ممالک چاہیں تو میں ثالثی کے لیے تیار ہوں‘۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش قبول کرلی تھی تاہم بھارت نے امریکی صدر کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔

بعدازاں اگست کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش دہراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر مداخلت کے لیے تیار ہیں تاہم اس کا فیصلہ دونوں ممالک کے سربراہان نے کرنا ہے۔

تاہم بھارت نے دوسری مرتبہ بھی امریکی صدرکی ثالثی کی پیشکش مسترد کردی تھی۔

بعدازاں 26 اگست کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جی-7 کانفرنس کے موقع پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایک علیحدہ ملاقات سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت باہمی طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کر سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں ممالک کی مدد کے لیے موجود ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر خود حل کرسکتے ہیں، امریکی صدر

بی جے پی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق نریندر مودی کی حکومت کے فیصلے پر پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور دوطرفہ تجارت معطل کردیئے تھے، بھارتی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ بھارت جانے والی ٹرین اور بس سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔

علاوہ ازیں گزشتہ دنوں پاکستان نے آئس لینڈ جانے کے لیے بھارتی صدر کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت سے متعلق درخواست بھی مسترد کردی تھی۔