موسیٰ اور نسیم شاہ آسٹریلین بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرنے کیلئے پرعزم

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2019

ای میل

نسیم شاہ اور موسیٰ خان کو پہلی مرتبہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے— فوٹو: اسکرین شاٹ
نسیم شاہ اور موسیٰ خان کو پہلی مرتبہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے— فوٹو: اسکرین شاٹ

دورہ آسٹریلیا کے ذریعے پہلی مرتبہ پاکستانی ٹیم میں منتخب ہونے والے نوجوان فاسٹ باؤلر محمد موسیٰ خان اور نسیم شاہ نے آسٹریلین بیٹنگ لائن کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

موسیٰ خان اور نسیم شاہ دونوں ہی پاکستان کے تیز ترین فاسٹ باؤلرز تصور کیے جاتے ہیں جہاں 19 سالہ موسیٰ خان کو ٹیسٹ اور ٹی20 دونوں اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ 16سالہ نسیم شاہ کو 19سالہ شاہین شاہ آفریدی کے ہمراہ صرف ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: دورہ آسٹریلیا کیلئے ٹی 20 اور ٹیسٹ ٹیم کا اعلان، سرفراز باہر

موسیٰ خان نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ اسٹیو اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر جیسے بلے بازوں کو آؤٹ کر سکوں اور اپنی تیز باؤلنگ سے سب کو متاثر کر سکوں۔

انہوں نے کہا کہ میری طاقت تیز باؤلنگ ہے، وقار یونس اور شعیب اختر میرے آئیڈیل ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان جیسی کارکردگی دکھاؤں اور ان کی طرح بلے بازوں کے دل میں اپنا خوف پیدا کر سکوں۔

موسیٰ خان اور نسیم شاہ کی دورہ آسٹریلیا کے لیے قومی ٹیم میں شمولیت کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی نئی مینجمنٹ کا جرات مندانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے جہاں نئے کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نئے کھلاڑیوں کے ذریعے آسٹریلیا میں جارحانہ کرکٹ کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اپنی تیز باؤنسرز سے پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ میں دھاک بٹھانے والے نسیم شاہ نے امید ظاہر کی کہ وہ پاکستان ٹیم میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے کے فوراً بعد ہی اپنا تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مجھے دورہ آسٹریلیا کے دوران ٹیسٹ میچوں میں موقع ملا تو اپنی فاسٹ باؤلنگ اور سوئنگ سے اچھا تاثر قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔

16سالہ فاسٹ باؤلر نے کہا کہ آسٹریلیا میں کنڈیشنز فاسٹ باؤلرز کے لیے سازگار ہوتی ہیں اور میری نظر ان کنڈیشنز کو بہترین طریقے سے استعمال کرتے ہوئے میزبان بلے بازوں کو آؤٹ کرنے پر مرکوز ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ تیز اور باؤنسی وکٹوں پر کھیلنے کا تجربہ شاندار ہو گا اور مجھے اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

پاکستانی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کا آغاز 3 نومبر سے ہو گا جہاں قومی ٹیم سیریز کے دوران تین ٹی20 میچوں کی سیریز کے بعد دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی کھیلے گی۔