عراق: حکومت مخالف مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 260 سے تجاوز کرگئی

06 نومبر 2019

ای میل

عراق میں یکم اکتوبر کو حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا—فوٹو:اے ایف پی
عراق میں یکم اکتوبر کو حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا—فوٹو:اے ایف پی

عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے جہاں ایک مرتبہ پھر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں کم ازکم 13 مظاہرین جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اب تک مجموعی ہلاکتیں 260 سے تجاوز کرگئی ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں 8 افراد کو صبح کے وقت اور دیگر 5 افرد کی ہلاکت شام کے وقت ہوئی جن میں سے اکثر افراد کو دارالحکومت بغداد میں نشانہ بنایا گیا۔

میڈیکل اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی نماز جنازہ کے دوران بھی فائرنگ کی گئی جس سے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں:کربلا: ایرانی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے 3 مظاہرین ہلاک

خیال رہے کہ عراق میں یکم اکتوبر کو حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو بعد ازاں خون ریزی میں تبدیل ہوا تھا۔

عراق میں مظاہروں کے دوران اب تک مجموعی ہلاکتیں 260 سے تجاوز کرچکی ہیں۔

عراق میں پرتشدد احتجاج کا نیا اس سلسلہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی جانب سے مظاہرین کو اپنی تحریک معطل کرنے کی درخواست کے ایک روز بعد شروع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مظاہرین کا مقصد حاصل ہوچکا ہے اور اب سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کا معیشت پر اثر پڑ رہا ہے اور ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے سرکاری اور نجی املاک کو مزید نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھیں:عراق میں حکومت مخالف سول نافرمانی کی مہم، سرکاری دفاتر بند

ان کا کہنا تھا کہ ‘عوام کی زندگی کو متاثر کیے بغیر اپنے خیالات کے اظہار کے کئی اور طریقے بھی موجود ہیں’۔

خیال رہے کہ عادل عبدالمہدی پیش کش کرچکے ہیں کہ اگر سیاست متبادل اور کئی اصلاحات پر متفق ہوجاتے ہیں تو مستعفی ہونے کو تیار ہیں لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں بلکہ تمام سیاست دانوں کو جانا پڑے گا۔

بغداد میں مظاہرین میں شامل 30 سالہ شخص کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے احتجاج کے پہلے سلسلے کے بعد حکومت کو اصلاحات کے لیے 25 اکتوبر کی تاریخ دی تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی اور جتنی بھی اصلاحات پیش کی گئی ہیں وہ معمول کا کام ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی پرتشدد کارروائیوں نے مظاہرین کو مشتعل کردیا ہے کیونکہ ابتدائی طور پر آئینی اور قانونی اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب مکمل طور پر تبدیلی کا مطالبہ ہے۔