عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی الحاق کے خلاف اقدامات کرے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا 

— فائل فوٹو: پی ٹی آئی انسٹاگرام
5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا — فائل فوٹو: پی ٹی آئی انسٹاگرام

وزیراعظم عمران خان نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ عالمی برادری بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے غیرقانونی الحاق کے خلاف اقدامات کرے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن پر مسلمانوں کو سب کے لیے مساوات، انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کا پیغام یاد کرنے کی ضرورت ہے جو نبی کریم ﷺ نے 14 سو برس سے زائد پہلے ہمارے دیا تھا اور اسی نے انسانی حقوق اور انسانی عظمت کے احترام کے اصولوں کی بنیاد رکھی۔

وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ نبی کریمﷺ کی تعلیمات، خاص طور پر ان کے آخری خطبے سے اور ہمارے آئین میں شامل ذمہ داریوں سے متاثر ہوکر میری حکومت بلا تفریق تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں وزیراعظم نے لکھا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن پر ہمیں عالمی برداری، عالمی قوانین کی عملداری یقینی بنانے والے اداروں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کرنی چاہیے کہ وہ قابض بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے غیرقانونی الحاق کے خلاف اقدامات کریں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ 4 ماہ سے جاری مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کی مذمت کرتے ہیں اور بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیری مردوں، عورتوں اور بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔

اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا ہم، اپنے حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے بہادر کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اس اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ وہاں تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے گئے تھے۔

بعد ازاں 7 اگست کو بھارتی لوک سبھا (ایوان زیریں) سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے ’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019‘ بھاری رائے شماری سے منظور کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی تقسیم پر عملدرآمد، سڑکیں صحرا کا منظر پیش کرنے لگیں

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرکے وہاں کونسٹی ٹیوشن (ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر) آرڈر 2019 کا خصوصی آرٹیکل نافذ کیا گیا، جس کے تحت اب بھارتی حکومت مقبوضہ وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں بھارتی قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔

بھارتی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 128 روز سے کرفیو جاری ہے اور دیگر پابندیاں برقرار ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد نے وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔

31 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت کے 5 اگست کے احکامات پر عمل درآمد کا آغاز ہوا تھا جس کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل ہوگیا جس میں ایک جموں و کشمیر اور دوسرا بدھ مت اکثریتی لداخ کا علاقہ شامل ہے۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر نے کے بعد سخت سیکیورٹی کی موجودگی اور عوامی غم و غصے کے باوجود وادی پر براہِ راست وفاقی حکومت کی حکمرانی کے آغاز کے بعد مقبوضہ کشمیر اپنے پرچم اور آئین سے بھی محروم ہوگیا ہے۔

پاکستان کے اقدامات

پاکستان نے 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر مسترد کیا تھا۔

بعدازاں 7 اگست کو قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے تحت پاکستان میں 73واں یومِ آزادی، یومِ ٰیکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا تھا۔

علاوہ ازیں 15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی پر ملک بھر یوم سیاہ منایا گیا تھا، اس دوران تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا تھا اور بھارت مخالف احتجاج اور مظاہرے کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خط لکھ کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ اجلاس بلا کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کی جائے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستانی خط سلامتی کونسل کی صدر تک پہنچایا تھا۔

بعدازاں 16 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 50 سال میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر پر غور کے لیے تاریخی مشاورتی اجلاس طلب کیا تھا۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس بند کمرہ اجلاس تھا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی تھی اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے 27 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی اقدامات کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے عالمی برادری کو بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑیں گے اور اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے۔