احسان اللہ احسان کے 'فرار' سے متعلق خبر صحیح ہے، وفاقی وزیر داخلہ

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

وزیرداخلہ اعجاز شاہ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے—فوٹو: ڈان نیوز
وزیرداخلہ اعجاز شاہ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے—فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار سے متعلق میڈیا میں چلنے والی خبروں کی تصدیق کردی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ احسان اللہ احسان کے بارے میں ‘جو خبر آرہی میں نے بھی پڑھی ہے اور وہ صحیح ہے’۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ 'جی پتہ چلا ہے تو کہہ رہے ہیں صحیح ہے، بہت کچھ کر رہے ہیں اور ہمیں اچھی خبر ملے گی'۔

خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی مبینہ آڈیو ٹیپ رواں ماہ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے 11 جنوری 2020 کو 'پاکستانی سیکیورٹی اتھارٹیز کی حراست سے’ فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔

مزید پڑھیں:شہدائے اے پی ایس کے لواحقین کا احسان اللہ احسان کے 'فرار' کی وضاحت کا مطالبہ

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ترکی میں موجود ہیں جبکہ متعدد ذرائع کا ماننا ہے کہ دہشت گروپ کے سابق ترجمان افغانستان میں ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان دہشت گردوں کو پکڑنے اور نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر فرار ہوگئے جبکہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا تھا، لیکن اس سے قبل جب کارروائیوں کو مکمل کرنے کے لیے ان سے معلومات حاصل کی گئی اور اسی طرح کے ایک آپریشن میں وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

آڈیو پیغام میں کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے مشہور لیاقت علی کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سامنے 5 فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈال دیے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے اپنی طرف سے وعدوں کی پاسداری کی لیکن پاکستانی عہدیداروں پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو قید میں رکھا گیا۔

خیال رہے کہ اس آڈیو کی حتمی طور پر تصدیق نہیں ہوئی تھی تاہم انہوں نے دوران حراست سامنے آنے والی مشکلات اور فرار ہونے کے حوالے سے بتایا۔

بعد ازاں 11 فروری کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ احسان اللہ احسان کے مبینہ طور پر ملک سے فرار ہونے پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی تھی اور 13 فروری کو شہدائے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور کے لواحقین نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد سے رجوع کیا تھا.

چیف جسٹس کو اپنی درخواست میں سانحے میں شہید ہونے والے 15 طلبہ کے لواحقین نے کہا تھا کہ 'ہم لواحقین احسان اللہ احسان کے سرکاری تحویل میں تقریباً تین سال گزارنے کے بعد اہلخانہ سمیت مبینہ طور پر فرار ہونے کی خبر سن کر سخت صدمے میں ہیں۔'

یہ بھی پڑھیں:سینیٹ کمیٹی نے احسان اللہ احسان کے 'فرار' ہونے پر رپورٹ طلب کرلی

درخواست میں کہا گیا تھا کہ سفاک دہشت گرد نے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں 147 طلبہ اور اساتذہ شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'دہشت گرد کے فرار ہونے سے متاثرہ خاندان کے ذہنوں میں بہت سے سوالات پیدا ہوئے ہیں، احسان اللہ احسان کیسے ملک سے جانے میں کامیاب ہوا؟ کیا وہ تحویل سے فرار ہوا یا اسے کچھ شرائط کے ساتھ رہا کیا گیا؟ آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود اسے کس معاہدے کے تحت اسے تین سال تک زندہ رکھا گیا'.

درخواست میں چیف جسٹس سے درخواست کی گئی کہ احسان اللہ احسان کے فرار میں ذمہ دار لوگوں کو نوٹس جاری کر کے وضاحت لی جائے۔

شہید طلبہ میں سے ایک آجون خان کے والد نے درخواست جمع کرائی تھی، ان کا کہنا تھا کہ لواحقین نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کی تھی اور ان سے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی درخواست بھی کی تھی۔

آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور کے شہید طلبہ کے لواحقین نے پشاور پریس کلب کے باہر احتجاج کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے حراست سے مبینہ طور پر فرار ہونے کی وضاحت دی جائے۔

شہدائے اے پی ایس فورم کے صدر ایڈووکیٹ فضل خان کی قیادت میں مظاہرین پشاور پریس کلب کے باہر جمع ہوئے تھے اور دہشت گرد گروپ کے سابق ترجمان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

انہوں نے حکومت سے احسان اللہ احسان کے مبینہ طور پر فرار ہونے کے حوالے سے اٹھنے والے سوالوں کے جواب دینے اور اس حوالے سے تفتیش شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔