حکومت کا اصلاحاتی پروگرام صحیح سمت میں گامزن ہے، وزارت خزانہ

17 فروری 2020

ای میل

وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے اصلاحات اور مستقل موثر معاشی پالیسیوں پر پاکستان کے کردار کو سراہا— فائل فوٹو: اے پی
وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے اصلاحات اور مستقل موثر معاشی پالیسیوں پر پاکستان کے کردار کو سراہا— فائل فوٹو: اے پی

وزارت خارجہ نے ذرائع ابلاغ کے ایک حلقے میں چلنے والی ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ جن میں کہا گیا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) سے 45 کروڑ 20 لاکھ روپے کی تیسری قسط ملنے سے قبل پاکستان کو سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ انگریزی اخبار دی نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرض کے حصول کے لیے مزید سخت اقدامات کرتے ہوئے گیس اور بجلی کی نرخوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔

اس پر پیر کو وزارت خزانہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا، جس کے مطابق پہلے سے طے شدہ وقت سے زیادہ وقت لگ جانا سہ ماہی جائزے میں عام سی بات ہے اور اسے کسی غیرمعمولی چیز کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: حکومت آئی ایم ایف پیکج پر نظرثانی کرے ورنہ ملک بھر میں احتجاج ہوگا، بلاول

بیان میں کہا گیا کہ منصوبہ بندی کے تحت آئی ایم ایف بورڈ کے سامنے دوسری اور تیسری سہ ماہی کے جائزے بھی پیش کیے جائیں گے کیونکہ کوئی بھی فیصلہ پہلے سے نہیں کیا گیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ چین پاکستان کا آہنی بھائی ہے اور ہمیں چین کے قرض کی واپسی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے خدشات یا تحفظات لاحق نہیں۔

وزارت خزانہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کے پاکستانی حکام سے تعمیری اور موثر مذاکرات ہوئے اور انہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران کی گئیں اصلاحات اور مستقل موثر معاشی پالیسیوں پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف پاکستان کی ’قابل ذکر پیش رفت‘ کا معترف، مذاکرات بے نتیجہ ختم

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم دسمبر تک کارکردگی کے معیار کو پورا کرنے میں کامیاب رہے اور ساختی معیار بھی مکمل کر لیا گیا ہے، (لہٰذا) فنانس ڈویژن یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ کی معاونت سے چلنے والا حکومت کا اصلاحاتی پروگرام صحیح سمت میں گامزن ہے۔

وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ خبریں سراسر من گھڑت اور بے بنیاد ہیں کہ پاکستان کو قبل از وقت اقدامات کرنا ہوں گے اور اس کا مقصد محض یہ ثابت کرنا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کا وفد پاکستان آیا تھا جہاں انہوں نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سمیت اہم حکومتی اکابرین سے ملاقات کی تھی۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے درآمدی ٹیرف میں کمی، جنرل سلیز ٹیکس کی ہم آہنگی یقینی بنانے، آزادانہ تجارت کے معاہدے کرنے اور فنڈز کی کمی کا شکار پائیدار ترقی کے اہداف کی ذمہ داری لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

عالمی مالیاتی ادارے کی ٹیم نے پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے 2030 تک 61 کھرب 96 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگاتے ہوئے مزید مالی گنجائش پیدا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔