اسلام آباد ہائی کورٹ کا اڈیالہ جیل سے معمولی جرائم والے قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

20 مارچ 2020

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ضمانتی مچلکوں کے عوض معمولی جرائم کے قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کردیے — فائل فوٹو:فیس بک
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ضمانتی مچلکوں کے عوض معمولی جرائم کے قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کردیے — فائل فوٹو:فیس بک

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل میں موجود معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر 1362 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

عدالت میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقت ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: بھارت کا 22 مارچ کو پورے ملک میں کرفیو لگانے کا فیصلہ

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان سے سوال کیا کہ جیل سے متعلق انتظامیہ کی کیا پالیسی ہے جس پر ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ’ابھی تک جیل میں کسی قیدی میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اڈیالہ جیل میں ملاقاتیوں کا آنا جانا بند کر دیا گیا ہے‘۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی جیل کے قیدیوں میں وائرس پھیل گیا تو بہت مشکلات ہو جائیں گی، ابھی تک صرف چین ہی اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور چین میں بھی 2 جیلوں میں وائرس پھیلنے کے بعد معاملات خراب ہوئے تھے‘۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’آوارگی کے الزام میں بھی لوگ جیل میں پہنچ جاتے ہیں، اتنے معمولی جرائم والے تو جیل تک نہیں پہنچنے چاہئیں، جیل میں کسی قیدی کو نہ اسکریننگ کے بغیر اندر آنے دیا جائے نہ باہر‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سیکشن 401 کے تحت بیمار قیدیوں سے متعلق انتظامیہ اور حکومت بااختیار ہیں، ان کی سزا معطل کی جائے جبکہ پے رول پر بھی کچھ قیدیوں کو عارضی طور پر رہا کیا جا سکتا ہے‘۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل کے قیدیوں سے متعلق حکم جاری کرتے ہوئے معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا کہا۔

عدالت نے حکم دیا کہ کہ ’ڈپٹی کمشنر ایک آفیسر مقرر کریں جو ضمانتی مچلکوں کے معاملات دیکھے، جو قیدی مچلکے جمع نہ کرا سکیں اور حکومت کو ان کے مچلکے خود دینا پڑیں تو دے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ ایمرجنسی نوعیت کے حالات ہیں ، تمام اقدامات کرنا ہوں گے، ہماری قوم گھبرانے والی نہیں لیکن اقدامات تو کرنے ہی ہوں گے‘۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’جو قیدی تھانوں میں موجود ہیں ان کے مچلکے اسٹیشن ہاوس آفیسر (ایس ایچ او) لے کر رہا کر سکتا ہے، ہم تھانے والے قیدیوں سے متعلق بھی تحریری حکم جاری کر دیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ان حالات میں گرفتار صرف اسی کو کیا جائے جس سے بہت خطرہ ہو، اگر کورونا کو قابو نہ کیا گیا تو 50 سال تک اس نقصان کا ازالہ نہیں ہو پائے گا‘۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے وکیل جہانگیر جدون نے عدالت سے سوال کیا کہ ’کیا نیب کے قیدیوں پر بھی عدالتی احکامات کا اطلاق ہو گا جس پر عدالت نے کہا کہ نیب قیدیوں سے متعلق اختیار صوبائی حکومتوں کا ہے، ہم جیل میں قیدیوں کی تعداد کم کرنے کے لیے معمولی جرائم والے قیدیوں سے متعلق احکامات دے رہے ہیں‘۔