کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن: آئل، گیس کی ترسیل ’ضروری خدمات‘ قرار

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ بجلی کے بل کی قسطوں پر تاخیر سے ادائیگی کرنے والے سرچارج نہیں ہوں گے —فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بل کی قسطوں پر تاخیر سے ادائیگی کرنے والے سرچارج نہیں ہوں گے —فائل فوٹو: اے ایف پی

حکومت نے بعض صوبوں میں لاک ڈاؤن کی صورتحال کی وجہ سے بلا تعطل ترسیل کے لیے گیس، آئل اور متعلقہ اداروں کے آپریشنز کو ’ضروری خدمات‘ قرار دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر 15 روپے کمی کے اعلان کے بعد مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریٹیلرز نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی سے انکار کردیا۔

مزید پڑھین: حکومت کی قرض دہندہ، امدادی اداروں سے 4 ارب ڈالر حاصل کرنے کی کوششیں

معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے بتایا کہ تیل و گیس کے کچھ شعبوں کے آپریشنز بشمول ایل این جی پورٹ ہینڈلنگ صوبائی لاک ڈاؤن کی وجہ سے دباؤ میں آئیں اور صورتحال کو کم کرنے کے لیے خصوصی مداخلت کرنا پڑی۔

اس کے علاوہ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیل اور گیس کی فراہمی ’ضروری خدمات‘ میں شامل ہوگئیں ہیں لہذا پاکستان میں این اینڈ پی کمپنیاں، ان کے ذیلی ٹھیکیداروں، عملے، سازوسامان اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کو لازمی قرار دے دیا۔

لہذا اس ضمن میں تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ سے کہا گیا کہ وہ بہترین قومی مفاد میں تیل اور گیس کمپنیوں بشمول آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم، یونائٹڈ توانائی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، اینی، ایم او ایل گروپ، ماری پیٹرولیم، کویت غیر ملکی پیٹرولیم ایکسپلوریشن کمپنی، پولش آئل اینڈ گیس، او پی ایل، اورینٹ پیٹرولیم اور پاکستان آئل فیلڈز کو بلا تعطل ترسیل میں تعاون کریں۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ

ایک نیوز کانفرنس میں سوال کے جواب میں پیٹرولیم کے معاون ندیم بابر نے بتایا کہ او ایم سی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر لطف اندوز ہوتے رہے اور حکومت نے ان سے یہ حصص بانٹنے کے لیے کبھی دباؤ نہیں ڈالا اس لیے وہی طریقہ کار جاری رہے گا اب انہیں کچھ انوینٹری نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہ رسک پیٹرولیم کاروبار کا حصہ ہے کیونکہ او ایم سی کو کچھ دنوں تک اسٹاک برقرار رکھنے کی ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کی جانچ کرے گی کہ اگر ان کو تبادلے کی شرح میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ شیڈول سے ایک ہفتہ قبل قیمت میں کٹوتی ہوتی ہے تو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے معاملہ پیش کیا جائے گا۔

ندیم بابر نے کہا کہ او ایم سی نے انوینٹری نقصانات کو کم کرنے کے لیے ماہانہ کی بجائے 15 یا ہفتہ وار قیمتوں پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی کیا۔

مزیدپڑھیں: بازار حصص میں مندی برقرار، 100 انڈیکس میں پھر 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی

انہوں نے کہا کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں معمولی تبدیلیاں نہیں کرے گی بلکہ ایک مہینے میں مکمل طریقہ کار پر غور کرے گی اور اگر مستقبل قریب میں بین الاقوامی شرح قیمت میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ نہیں ہوا تو قیمتوں کا تعین کرنے کی حکمت عملی کے ایک پیکیج کو ای سی سی میں پیش کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ بجلی کے بل کی قسطوں پر تاخیر سے ادائیگی کرنے والے سرچارج نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کورونا وائرس سے آئندہ 3 مہینوں میں صورتحال مایوس کن رہی تو کم آمدنی والے گھرانوں سےبجلی کے بل 9 ماہ میں مکمل ادائیگی وصول کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے عملے کی عدم دستیابی سے ایل این جی ٹرمینل کے آپریشنز متاثر ہور ہے ہیں جس کے باعث وفاقی حکومت کو اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار جاری کرنا پڑا۔