کورونا وائرس: بلوچستان میں پہلی ہلاکت، ملک میں 878 افراد متاثر

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

کورونا وائرس پورے ملک میں پھیل چکا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
کورونا وائرس پورے ملک میں پھیل چکا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور جہاں اس عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 800 سے تجاوز کرچکی ہے وہی بلوچستان میں اس وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آئی ہے۔

اس ہلاکت کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس سے موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔

مذکورہ معاملے پر بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بلوچستان میں کورونا وائرس سے پہلا فرد انتقال کرگیا۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا سے متاثرہ 65 سالہ شخص کا انتقال کوئٹہ میں فاطمہ جناح چیسٹ ہسپتال میں ہوا۔

واضح رہے کہ اس انتقال کے بعد ملک میں اموات کی تعداد 6 جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 878 تک جاپہنچی ہے۔

سندھ میں مزید 42 کیسز کی تصدیق

محکمہ صحت سندھ نے پیر کو مزید 42 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 394 ہوگئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کراچی میں 3 اور سکھر میں 39 نئے کیسز سامنے آئے، یوں شہر قائد میں متاثرین کی تعداد 134 جبکہ سکھر میں 260 ہوگئی۔

کراچی میں سامنے آنے والے کیسز مقامی طور پر ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہونے کے ہیں۔

پنجاب میں 249 افراد متاثر

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پہلے صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 21 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں مجموعی تعداد 246 ہوگئی۔

بعد ازاں رات گئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے میں مزید 3 نئے افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔

ان میں سے 176 کیسز ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ مرکز، 51 لاہور، 5 گجرات، 6 گوجرانوالہ، 3 جہلم، 2 راولپنڈی، 2 ملتان اور ایک ایک کیسز فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین، رحیم یار خاناور سرگودھا میں سامنے آیا۔

خیبرپختونخوا میں مزید 7 کیسز رپورٹ

خیبرپختونخوا میں بھی کورونا وائرس کا ایک اور مریض سامنے آگیا۔

اس حوالے سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے تصدیق کی کہ صوبے میں ایک اور کورونا وائرس کے کیس کی تصدیق ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ مریض حال ہی میں برطانیہ سے واپس آیا تھا اور انہیں 2 روز قبل پولیس ہسپتال سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مریض کو اس وقت آئیسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

بعد ازاں محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے مزید 6 کیسز کی تصدیق کی گئی جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 38 ہوگئی۔

اسلام آباد میں مزید 4 متاثرین

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مزید 4 متاثرین سامنے آگئے۔

اس حوالے سے سرکاری ویب سائٹ کے اعداد و شمار میں اسلام آباد کے مریضوں کی تعداد 11 سے بڑھا کر 15 کردی گئی۔

اگر اعداد و شمار کو دیکھیں تو اس وائرس سے صوبہ سندھ 394 کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پنجاب ہے، جہاں کیسز کی تعداد 249 ہے۔

بلوچستان میں مزید 2 کیسز کی تصدیق

چیف سیکریٹری بلوچستان فَضیل اصغر کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے 2 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 110 ہوگئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں یہ تعداد 38 ہے، اس کے علاوہ اسلام آباد میں 15، گلگت بلتستان میں 71 اور آزاد کشمیر میں ایک فرد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

سندھ اور گلگت بلتستان میں لاک ڈاؤن

ادھر ملک میں بڑھتے کورونا وائرس کے کیسز کے باعث سندھ میں 15 دن جبکہ گلگت بلتستان میں غیر معینہ مدت تک کے لیے لاک ڈاؤن کردیا گیا۔

اس لاک ڈاؤن کا آغاز رات کو 12 بجے سے ہوا اور اس میں لوگوں کو بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس لاک ڈاؤن سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی جماعتوں، علما اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے مشاورت کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کیسز بڑھ رہے ہیں اور ہمیں انہیں روکنا ہے بصورت دیگر یہ کنٹرول سے باہر ہوجائے گا۔

ادھر گلگت بلتستان کے وزیر قانون اورنگزیب خان اور وزیر اطلاعات شمس میر نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان حکومت نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے علاقے میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔

ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اشیائے خورو نوش کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز کے سوا تمام مارکیٹس، دکانیں بند رہیں گی اور انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی۔

علاوہ ازیں سندھ حکومت کی جانب سے فوج طلبی کی درخواست کے بعد مزید دو صوبوں پنجاب اور بلوچستان نے بھی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کرلی۔

یہاں یہ بھی مدنظر رہے کہ سندھ اور گلگت بلتستان کے سوا پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد میں کورونا وائرس کے پیش نظر دیگر حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور کئی مقامات پر شاپنگ مالز، مارکیٹ و دیگر مقامات کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔


پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز پر ایک نظر

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔

  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی، 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔

  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔

  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔

  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔

  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔

  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔

  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔

  • 15 مارچ کو اسلام آباد اور لاہور میں ایک ایک، کراچی میں 5، سکھر میں 13 کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد کیسز کی تعداد 53 ہوگئی تھی۔

  • 16 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اچانک بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور سندھ میں تعداد 35 سے بڑھ کر 150 جبکہ خیبرپختونخوا میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 184 تک جا پہنچی تھی۔

  • 17مارچ کو ملک کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 237 تک پہنچ گئی تھی۔

  • 18 مارچ کو پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی جبکہ کچھ ہی دیر بعد ہی عالمی وبا سے دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی، اس کے علاوہ اسی روز صوبے میں مزید 64 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 301 تک ہوگئی تھی۔

  • 19 مارچ کو بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس روز تعداد 448 تک جاپہنچی۔

  • مارچ کی 20 تاریخ کو اس عالمی وبا سے کراچی میں پہلی ہلاکت سامنے آئی، جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 3 ہوگئی جبکہ اسی روز نئے مریضوں کے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 495 تک ہوگئی۔

  • 21 مارچ کو پاکستان میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل تھے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی تھی۔

  • 22 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کے ساتھ مجموعی تعداد 799 تک پہنچ چکی تھی، جس میں پنجاب میں مزید 73، سندھ میں مزید 60، بلوچستان میں 4 کیسز جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک ڈاکٹر جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت کے بعد مجموعی اموات 5 ہوگئی تھیں، سندھ میں ایک شخص کے صحتیاب ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔

کورونا وائرس سے متعلق اپ ڈیٹ کے لیے یہاں کلک کریں اور تفصیلی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں